سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہGetty
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ریاض میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے علاقائی حریف ایران سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا گیا ہے جب مغربی ممالک ایران سے مفاہمت کے راستے پر گامزن ہیں اور عالمی طاقتیں ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت کر رہی ہیں۔
سعودی وزیر نے کہا کہ ’ایران ہمارا ہمسایہ ہے، ہمارے ان سے تعلقات رہے ہیں اور ہم ان سے بات کرنے پر تیار ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان سے اس امید کے ساتھ بات کریں گے کہ اگر کوئی اختلافات ہیں تو وہ دونوں ملکوں کی مرضی کے مطابق حل ہوں۔‘
ایران اور سعودی عرب کے درمیان مختلف علاقائی مسائل پر شدید اختلافات ہیں، خاص طور پر شام میں گذشتہ تین سال سے جاری تنازعے پر، جس میں ایران شامی حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور ریاض شام میں برسرِپیکار باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب جاوید ظریف کو سعودی عرب آنے کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جس وقت بھی مناسب سمجھیں، سعودی عرب آ سکتے ہیں۔
جواد ظریف نے گذشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہتے ہیں اور انھوں نے سعودی عرب سے اپیل کی تھی کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے ایران کےساتھ مل کر کام کرے۔
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع چک ہیگل مشرق وسطیٰ کے دورے کے پہلے حصہ میں سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں وہ ایران کے جوہری پروگرام اور شام میں جاری لڑائی پر بات چیت کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکام کو اپنے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور سعودی عرب نے اس ضمن میں تحفظات کا اظہار کیا تھا۔







