شرعی قوانین کے نفاذ پر بیورلی ہلز ہوٹل کا بائیکاٹ

،تصویر کا ذریعہReuters
ہالی وڈ کے سٹار برونائی کی حکومت کے سخت اسلامی قوانین نافذ کرنے کے فیصلے کے خلاف بیورلی ہلز میں ایک معروف ہوٹل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جو برونائی کے سلطان کی ملکیت ہے۔
کامیڈین جے لینو اور ایلن ڈی جینیریز بھی ان معروف شخصیتوں میں شامل ہیں جو بیورلی ہلز ہوٹل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بیورلی ہلز ہوٹل برونائی حکومت کی ملکیت ہے۔ بیورلی ہلز سٹی کونسل ان قوانین کی مذمت کرنے کے لیے ایک قرارداد پر رائے شماری کرنے والی ہے۔
برونائی کے سلطان حسن بلقیہ نے گذشتہ ہفتے نئی سزاؤں کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا تھا جن کے تحت ہم جنس پرستی اور زنا کے مرتکب افراد کے لیے سنگساری اور چوری کرنے پر اعضا کاٹنے کی سزائیں دی جائیں گی۔
جمعرات سے متعارف ہونے والے ان نئے قوانین کا مکمل نفاذ اگلے تین سال میں ہو گا۔
بیورلی ہلز کی میئر لِلی بوس نے شہریوں سے برونائی کے نئے قوانین کی مذمت کرنے والی قرارداد کو منظور کرنے پر زور دیا ہے اور اس ملک کے ہوٹل اور دوسری املاک سے اپنا سرمایہ نکالنے کی درخواست کی ہے۔
اس قرارداد پر منگل کو رائے شماری کی جائے گی۔
ورجن گروپ کے بانی رچرڈ برانسن نے سنیچر کو ٹویٹ کیا تھا کہ جب تک سلطان بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کرتے، وہ اور ان کے اہل خانہ ان پرآسائش ہوٹلوں میں نہیں ٹھہریں گے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سی تنظیموں نے برونائی کی ملکیت والے ہوٹلوں میں اپنے طے شدہ پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ہوٹل ایک زمانے سے ہالی وڈ کے مشاہیر کے ملنے جلنے کا مرکز رہا ہے۔ یہاں آسکر ایوارڈز کی چیریٹی تقریب سے قبل موشن پکچرز اینڈ ٹیلی ویژن فنڈ کی سالانہ تقاریب منعقد ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گلوبل ویمنز رائٹس ایوارڈز کی تقاریب بھی یہاں ہوا کرتی تھیں۔
سوموار کو ہوٹل کے سامنے ایک مختصر سے مظاہرے کے دوران جے لینو نے کہا: ’میرے خیال میں تمام انسان بنیادی طور پر اچھے ہیں اور جب انھیں یہ محسوس ہو گا کہ ایسا ہو رہا ہے تو وہ اس ضمن میں ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے۔‘
تاہم ڈارچسٹر کلکشن کے کرسٹوفر کاؤڈری کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ان مقامی ہوٹلوں کو نظر انداز کر دیا ہے جن کے مالک ممالک میں انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا: ’یہاں ایسے ہوٹل اور کمپنیاں ہیں جو سعودی عرب کی ملکیت ہیں۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو قمیص آپ پہنے ہوئے ہیں ہو سکتا ہے وہ اس ملک سے آئی ہو جہاں انسانی حقوق کا مسئلہ ہے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کا بائیکاٹ صرف مقامی ملازموں کو متاثر کرے گا۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت برونائی کی سزاؤں میں تبدیلی پر خاموش ہے، لیکن وزارت داخلہ نے منگل کو کہا کہ اس نے علیحدہ طور پر برونائی کی حکومت سے اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
برونائی کے یہ قوانین تین مرحلوں پہ مشتمل ہیں۔ پہلے مرحلے میں جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جائیں گی جب کہ دوسرے مرحلے میں اعضا کاٹنے کی سزائیں شامل ہیں۔ تیسرے مرحلے میں زنا اور ہم جنس پرستی پر سنگساری کی سزائیں دی جا سکیں گی۔
گذشتہ سال کیے جانے والے اعلان کے مطابق یہ نئے قوانین صرف مسلمانوں پر لاگو ہونے تھے، لیکن برونائی کے سب سے بڑے انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق نئے قانون مسلم اور غیر مسلم شہریوں پر یکساں لاگو ہوں گے۔







