یوکرین کے لیے 17.1 ارب ڈالر قرضے کی منظوری

مارچ میں یوکرین نے قرضہ حاصل کرنے کے لیے گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمارچ میں یوکرین نے قرضہ حاصل کرنے کے لیے گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے یوکرین کی معیشت کی بحالی کے لیے 17.1 ارب ڈالر کے قرضے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ یوکرین اور ہمسایہ ملک روس کے درمیان سخت سیاسی اور عسکری کشیدگی جاری ہے۔

یہ قرضہ سخت معاشی اصلاحات پر مشروط ہے جن میں ٹیکسوں اور تونائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ رقم دو سال کے عرصے میں یوکرین کو دی جائے گی اور اس کی 3.2 ارب ڈالر پر مشتمل پہلی قسط فوری طور پر یوکرین کے لیے میسر کر دی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وقفے وقفے سے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یوکرین کی حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

مارچ میں یوکرین نے قرضہ حاصل کرنے کے لیے گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے کم سے کم تنخواہ کو منجمد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس قرضے کی منظوری آئی ایم ایف کے 24 رکنی بورڈ نےدی ہے جس میں ایک روسی نمائندہ بھی شامل ہے۔

آئی ایم ایف کے قرضے کے بعد دیگر امدادی ادارے اور ممالک بھی یوکرین کو رقوم دے سکیں گے جن میں ورلڈ بینک، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں یوکرین نے روس سے 15 ارب ڈالر کے امدادی قرضے کی منظوری حاصل کر لی تھی تاہم روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کی عوامی احتجاج کے بعد برطرفی اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

بدھ کے روز آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ روس کو یوکرین میں جاری بحران کی وجہ مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

ادارے کے مطابق یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کے باعث اس سال کے اختتام تک تقریباً ایک سو ارب ڈالر روسی معیشت سے نکل جائیں گے۔

یہ پابنددیاں اس وقت لگائی گئیں جب گذشتہ ماہ روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو روس میں ضم کر لیا تھا۔

روس کے حامی کارکنوں نے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں حکومت سے بغاوت کا اعلان کیا ہے اور متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے، تاہم روسی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقے میں روسی فوجی کام کر رہے ہیں۔