یوکرین کے لیے 17.1 ارب ڈالر قرضے کی منظوری

،تصویر کا ذریعہAFP
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے یوکرین کی معیشت کی بحالی کے لیے 17.1 ارب ڈالر کے قرضے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین اور ہمسایہ ملک روس کے درمیان سخت سیاسی اور عسکری کشیدگی جاری ہے۔
یہ قرضہ سخت معاشی اصلاحات پر مشروط ہے جن میں ٹیکسوں اور تونائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ رقم دو سال کے عرصے میں یوکرین کو دی جائے گی اور اس کی 3.2 ارب ڈالر پر مشتمل پہلی قسط فوری طور پر یوکرین کے لیے میسر کر دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وقفے وقفے سے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یوکرین کی حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
مارچ میں یوکرین نے قرضہ حاصل کرنے کے لیے گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے کم سے کم تنخواہ کو منجمد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس قرضے کی منظوری آئی ایم ایف کے 24 رکنی بورڈ نےدی ہے جس میں ایک روسی نمائندہ بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف کے قرضے کے بعد دیگر امدادی ادارے اور ممالک بھی یوکرین کو رقوم دے سکیں گے جن میں ورلڈ بینک، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔
گذشتہ سال دسمبر میں یوکرین نے روس سے 15 ارب ڈالر کے امدادی قرضے کی منظوری حاصل کر لی تھی تاہم روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کی عوامی احتجاج کے بعد برطرفی اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کے روز آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ روس کو یوکرین میں جاری بحران کی وجہ مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ادارے کے مطابق یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کے باعث اس سال کے اختتام تک تقریباً ایک سو ارب ڈالر روسی معیشت سے نکل جائیں گے۔
یہ پابنددیاں اس وقت لگائی گئیں جب گذشتہ ماہ روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو روس میں ضم کر لیا تھا۔
روس کے حامی کارکنوں نے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں حکومت سے بغاوت کا اعلان کیا ہے اور متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے، تاہم روسی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقے میں روسی فوجی کام کر رہے ہیں۔







