مبصرین کی رہائی کے لیے کیری کی روس سے اپیل

جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سے یورپی مبصرین کی رہائی کی بات کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سے یورپی مبصرین کی رہائی کی بات کی ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی فوجی مبصرین کی رہائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کریں۔

واضح رہے کہ مشرقی یوکرین میں روس حامی فوجیوں نے گذشتہ دنوں ایک بس پر سوار یورپی مبصرین کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔

اپنے روسی ہم منصب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیری نے یوکرین کی سرحد پر ’اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب روس حامی فوجیوں نے مشرقی یوکرین کے درجنوں شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور کیئف کی حکومت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کے سفارت کار سوموار کو روس کے خلاف مزید پابندیوں پر بات کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سات ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی 7 نے بھی یوکرین معاملے پر روس کے خلاف پابندیوں میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جان کیری نے ’یوکرین کی سرحد پر روس کی اشتعال انگیز نقل و حرکت، اس کی علیحدگی پسندوں کی حمایت اور خطے کے استحکام کو خراب کرنے والی اشتعال انگیز بیان بازی پر ہمیشہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جان کیری نے ’روس پر زور دیا ہے کہ وہ کسی شرط کے بغیر او ایس سی ای کے مبصرین اور یوکرین کے سرکاری حکام کی رہائی کے لیے اقدام کرے۔‘

مشرقی یوکرین کے درجنوں شہروں کی سرکاری عمارتوں پر روس حامی فوجیوں نے قبضہ کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمشرقی یوکرین کے درجنوں شہروں کی سرکاری عمارتوں پر روس حامی فوجیوں نے قبضہ کر رکھا ہے

مغربی ممالک ماسکو پر الزام لگاتے ہیں کہ گذشتہ ماہ یوکرین سے کرائمیا کی علیحدگی کے بعد روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند بغاوت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ بہر حال روس ان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے۔

روس نے کہا ہے وہ آٹھ یورپی مبصرین کی رہائی کے لیے تمام ممکنہ اقدام کرے گا۔ یہ مبصرین یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم ’او ایس سی ای سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں یورپی حامی مسلح افراد نے جاسوسی کے الزام میں پکڑ لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مبصرین کی اس جماعت میں جرمنی، دنمارک، پولینڈ، سویڈن، اور چیک ریپبلک کے فوجی مبصرین شامل ہیں اور ان کے ساتھ یوکرین کے بعض فوجی بھی ہیں۔

جمعے کو یوکرین کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ مسلح علیحدگی پسندوں نے یورپ کے سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے سات مبصرین کو حراست میں لیا ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ یوکرین کی فوج کے پانچ اہلکار اور بس کا ڈرائیور بھی ان کے ہمراہ یرغمال ہیں۔

سلووینسک میں روس کے حامی رہنماؤں سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایک بس کو روکا گیا اور اس میں سوار افراد کی شناخت کی گئی۔

سلووینسک کے خود ساختہ میئر کا کہنا تھا کہ بس کے مسافر کے قبضےسے نقشے ملے ہیں جن میں علیحدگی پسندوں کی چوکیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ’اور یہ باتیں ان کے جاسوس ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔‘

کیئف کا کہنا ہے کہ اغواکار ان یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔