روس مدد نہیں کر رہا، مغرب کا نئی پابندیوں پر غور

،تصویر کا ذریعہReuters
مغربی ممالک نے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران میں کمی لانے میں مدد نہ کرنے پر روس پر نئی پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
فرانس، جرمنی، امریکہ، برطانیہ اور اٹلی نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کو غیرمسلح کرنے کے معاہدے کا احترام نہیں کر رہا ہے۔اس معاہدے کے تحت یوکرین میں موجود غیر قانونی مسلح گروہوں کو اپنے زیرِ قبضہ عمارتیں چھوڑ کر واپس چلے جانا تھا۔
یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ روسی فوجیوں کے اس کی حدود میں داخل ہونے کے کسی بھی اقدام کو فوجی مداخلت سمجھا جائے گا۔
<link type="page"><caption> یوکرینی فوج کی پیش قدمی، روس کی تنبیہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/04/140424_putin_russia_ukraine_warning_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس سے پہلے روس اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے الزام لگایا ہے کہ مغرب یوکرین پر ’کنٹرول‘ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایک دن پہلے جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے روس پر مشرقی یوکرین میں ’انتشار، فریب اور عدم استحکام‘ پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے مزید پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے یوکرین کی صورتحال پر اپنے فرانسیسی ہم منصب فرنسوا اولاند، جرمنی چانسلر اینگلا مرکل، برطانیہ اور اٹلی کے وزراء اعظم سے بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وائٹ ہاؤس کے مطابق بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی سیون اور یورپی یونین کے ذریعے روس پر اضافی پابندیوں کے لیے رابط کاری کی جائے گی اور تمام رہنما اس ضمن میں قریبی تعاون کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان کے مطابق ’بات چیت میں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس نے کوئی جوابی ردعمل نہیں دکھایا، جس میں جنیوا معاہدے کی کھلے عام حمایت نہ کرنا اور نہ ہی مسلح گروہوں کو ہتھیار رکھنے اور سرکاری املاک کا قبضہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ حقیقت میں یوکرین کی سرحد پر دھمکی آمیز فوجی مشقوں کے ذریعے مسئلے کو بڑھا رہا ہے۔‘
روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے شمالی یوکرین میں اہم عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور یوکرین نے ان عمارتوں کو واپس حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی ہے، جب کہ لاوروف نے اس کارروائی کو’جرم‘ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مغرب اپنے علاقائی سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اور اسے یوکرین کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پروپیگنڈے کا مقصد روس اور ان لوگوں کو بدنام کرنا ہے جو کیئف کے حکام کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
جان کیری نے ایک سخت بیان میں روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ یوکرین میں کشیدگی ختم کرے ورنہ مزید پابندیوں کے لیے تیار رہے۔
اس سے پہلے روس نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ کیئف کو ماسکو نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائیوں سے باز رکھے۔
ان کارروائیوں کے بعد روس نے اپنی سرحدوں پر فوجی مشقوں کا حکم دیا تھا، جب کہ یوکرین نے اس کی مذمت کی تھی۔
جان کیری نے کہا کہ امریکی جاسوسی اداروں کو مکمل یقین ہے کہ ’روس مشرقی یوکرین میں عدم استحکام پیدا کرنے میں افرادی قوت، اسلحے، مالی امداد اور فوجی منصوبہ بندی کے ذریعے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے خبردار کیا کہ روس کے پاس اپنی حکمت عملی بدلنے کے کم مواقع رہ گئے ہیں اور اگر اس نے کشیدگی ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تو امریکہ اس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس سے پہلے یوکرین میں حکومت کی جانب سے ’انسدادِ دہشت گردی‘ آپریشن کے دوبارہ آغاز کے اعلان کے بعد یوکرینی فوج کے کمانڈوز نے ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسندوں کے گڑھ سلووینسک کی جانب پیش قدمی کی تھی۔
صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے فوج کو عوام کے خلاف استعمال کیا تو اسے اس کے ’نتائج‘ بھگتنا پڑیں گے۔
یوکرین کی فوج نے سلووینسک کے علاوہ ایک اور مشرقی قصبے میریوپول میں بھی مرکزی ہال پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
یوکرینی حکومت کو اس وقت ملک کے مشرقی حصے میں مسلح بغاوت کا سامنا ہے اور یوکرین اور مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس ان مزاحمت کاروں کو کنٹرول کر رہا ہے، تاہم روس اس الزام سے انکار کرتا ہے۔
اس وقت مشرقی یوکرین میں دونیتسک اور لوہانسک سمیت کم از کم نو شہروں کے بیشتر علاقوں پر روس نواز گروہوں کا قبضہ ہے۔







