مفادات نشانہ بنے تو جوابی کارروائی کریں گے: روس

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ لاوروف کن مفادات کا ذکر کر رہے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ لاوروف کن مفادات کا ذکر کر رہے تھے

روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ اگر یوکرین میں اس کے مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

روس کے سرکاری ٹی وی چینل آر ٹی سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر نے امریکہ پر یوکرین میں حالات کنٹرول کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ یوکرینی حکومت نے امریکی نائب صدر جو بائڈن کے دورے کے دوران ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا آپریشن دوبارہ شروع کیا ہے، تو یہ بات بہت واضح ہوگئی ہے۔

یوکرینی حکومت کو اس وقت ملک کے مشرقی حصے میں مسلح بغاوت کا سامنا ہے اور یوکرین اور مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس ان مزاحمت کاروں کو کنٹرول کر رہا ہے، تاہم روس اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

اس وقت مشرقی یوکرین میں دونتسک اور لوہانسک سمیت کم از کم نو شہروں کے بیشتر علاقوں پر ان روس نواز گروہوں کا قبضہ ہے۔

امریکہ روس سے کئی بار یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ان مسلح افراد سے ہتھیار پھینکنے اور عوامی مقامات خالی کرنے کو کہے۔ اس کے علاوہ اس نے روس سے جارحانہ بیان بازی پر بھی قابو پانے کو کہا ہے اور ایسا نہ کرنے پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔

روسی چینل سے بات کرتے ہوئے سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ اگر جارجیا کی طرح ’ہم پر حملہ ہوا تو ہم یقیناً جواب دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے مفادات، ہمارے جائز مفادات، روسیوں کے مفادات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جیسا کہ جنوبی اوسیتیا میں ہوا تھا، تو میرے خیال میں عالمی قانون کے مطابق جواب دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔‘

روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ روسی وزیر کن مفادات کا ذکر کر رہے تھے۔

امریکہ اور مغربی ملک روس پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو مدد پہنچا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہ AFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور مغربی ملک روس پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کو مدد پہنچا رہا ہے

سرگے لاورورف نے یہ بھی کہا کہ اس بات کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ امریکہ ہی یہ سارا معاملہ چلا رہا ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کو متنبہ کیا تھا کہ یوکرین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ روس نے پچھلے ہفتے جنیوا میں یوکرین پر ہونے والی کانفرنس کی ناکامی کی ذمہ داری کیئف کے رہنماؤں پر ڈالی تھی۔

اس سے قبل یوکرین کے عبوری صدر نے ملک کے مشرقی علاقے میں ایک مقامی سیاستدان سمیت دو افراد کی ہلاکت کے بعد روس کے حامی باغیوں کے خلاف دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر دیا تھا۔

دونوں افراد کی لاشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

یوکرین کے قائم مقام صدر الیکساندر تورچینوف کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مقامی رہنما کا نام ولادی میر رِباک تھا جو باغیوں کے کنٹرول والے علاقے سلووينسك کے پاس مردہ پائے گئے ہیں۔

یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی نائب صدر جو بائڈن یوکرین کے دورے پر پہنچے ہیں۔

دارالحکومت كيئف میں یوکرین کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد بائڈن نے روس سے کہا کہ یوکرین کے بحران کو ختم کرنے کے لیے اسے ’باتیں بند کرنا چاہیے اور کام شروع کرنا چاہیے۔‘

جو بائڈن نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اسے ’مزید اشتعال انگیز کارروائیاں‘ نہیں کرنی چاہییں ورنہ روس ’مزید تنہا‘ہو جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ یوکرین کے نئے رہنماؤں کے ساتھ کھڑا ہے۔