ایورسٹ:بیس کیمپ میں غیریقینی صورتحال، کوہ پیماؤں کی واپسی

گائیڈز نے اپنے مطالبات کے لیے حکومت سے بھی بات کی ہے

،تصویر کا ذریعہAdrian Ballinger

،تصویر کا کیپشنگائیڈز نے اپنے مطالبات کے لیے حکومت سے بھی بات کی ہے

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں رواں سال کوہ پیمائی کی مہمات کے بارے میں بےیقینی کی صورتحال کی وجہ سے وہاں موجود کوہ پیماؤں کی ٹیموں میں سے نصف نے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ جمعے کو ماؤنٹ ایورسٹ میں برفانی تودہ گرنے سے کم از کم 16 گائیڈ ہلاک ہو گئے تھے۔ اس جان لیوا حادثے کے بعد مقامی گائیڈز کے درمیان غیر ملکی کوہ پیماؤں کی جانب سے دیے جانے والے معاوضے پر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

اس تنازعے میں کچھ گائیڈز نے بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

اگر دوسرے گائیڈ بھی واپس چلے گئے تو خدشہ ہے کہ رواں سال دنیا کی بلند ترین چوٹی پر کوہ پیمائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

نیپال کی کوہ پیمائی کی ایسوسی ایشن این ایم اے کے صدر آنگ تشرنگ شرپا نے بی بی سی کی نیپالی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح امکان ہے کہ تمام کوہ پیما یہ طے کر لیں کہ کوہ پیمائی کی مہم پر نہیں جانا۔

تاہم نیپال کی وزارتِ سیاحت کے ایک اہلکار مودھوسودن برلاکوٹی کو امید ہے کہ کچھ ٹیمیں اب بھی کوہ پیمائی کی مہم پر جائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق رواں سال تین سو سے زائد کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، لیکن برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں 13 گائیڈز کی ہلاکت اور تین کے لاپتہ ہونے کے بعد بہت سے کوہ پیما صدمے کی حالت میں ہیں۔

لاپتہ ہونے والے تین گائیڈز کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔

کوہ پیمائی کے تین ماہ کے موسم میں شرپا گائیڈزآٹھ ہزار ڈالر تک کما لیتے ہیں اور یہ نیپال میں دیے جانے والے عام معاوضے سے دس گنا زیادہ ہے۔

کوہ پیمائی کے تین ماہ کے موسم میں شرپا گائیڈزآٹھ ہزار ڈالر تک کما لیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکوہ پیمائی کے تین ماہ کے موسم میں شرپا گائیڈزآٹھ ہزار ڈالر تک کما لیتے ہیں

بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال بہتر نہیں لگتی کیونکہ حکومت غیر ملکی کوہ پیماؤں کو دیے جانے والے اجازت ناموں سے لاکھوں ڈالر کماتی ہے جبکہ بعض سیاحتی کمپیناں فی کوہ پیما 60 ہزار ڈالر تک معاوضہ لیتی ہیں۔

گذشتہ جمعےکو ہلاک ہونے والے گائیڈ کوہ پیماؤں کے لیے رسیاں لگانے گئے تھے کہ برفانی تودہ گر گیا۔ یہ برفانی تودہ پاپ کارن فیلڈ کے نام سے مشہور علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے گرا تھا۔

حکام کے مطابق یہ جگہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے قریب ہے اور اس کی بلندی 5800 میٹر ہے۔

سنہ 1953 میں پہلی مرتبہ تسخیر کیے جانے بعد سے اب تک تین ہزار سے زائد لوگوں نے دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کو سر کیا ہے اور اس دوران بہت سے کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین اور نیپال دونوں کی علاقائی حدود میں پھیلی اس چوٹی کی اونچائی 8848 میٹر یا 29029 فٹ ہے۔