نیویارک: مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کا پروگرام بند

امریکہ کے شہر نیویارک کی پولیس نے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کرنے والے محکمے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈیموگرافکس یونٹ نامی اس پروگرام کا کام مسلمانوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور ان کی حرکات و سکنات کی خفیہ طور پر نگرانی کرنا تھا تاکہ دہشت گردی کی کسی ممکنہ منصوبہ بندی کو روکا جا سکے۔
اس محکمے کے اہلکار مسلمانوں کے رہائشی علاقوں میں سادہ کپڑوں میں جاتے تھے، لوگوں کی بات چیت سنتے اور معلومات اکھٹی کر کے تفصیلی فائلیں تیار کرتے تھے۔
امریکہ میں اس وقت حکومت کی جانب سے عام شہریوں کی خفیہ نگرانی کرنے پر بحث جاری ہے۔
نیو یارک کی ڈیمو گریفکس یونٹ کی خفیہ کارروائیاں اس بات کو منظر عام پر لاتی ہیں کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی اور خاص طور پرامریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کرتی رہی ہے جس سے پولیس اور مسلمان برادری کے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔
ماضی میں اس پروگرام کو وفاقی سطح پر دو مقدمات میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور پولیس کے ان اقدامات کو عام شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
نویارک کے میئر بل دی بلیسیو نے ایک بیان میں کہا: ’یہ اصلاحات پولیس اور مسلمانوں میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق نیویارک پولیس کے نئے کمشنر ولیئم بریٹن نے اس پروگرام کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئے کمشنر نائن الیون حملوں کے بعد کیے گئے انٹیلیجنس اقدامات کو ختم کرنا چاہتے ہیں
سال 2003 سےجاری اس یونٹ کے اہلکار مسلمانوں کے رہائشی علاقوں میں جا کر لوگوں کی خریداری، ان کے کھانے پینے، کام کاج اور نماز کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرتے تھے۔
عرب اور امریکی ایسوسی ایشن کی لنڈا سارسور نے کہا: ’ڈیموگرافکس یونٹ نے ہماری کمیونٹی میں ایک نفسیاتی کشمکش پیدا کر دی۔‘







