بحرِ ہند میں لاپتہ طیارے کی زیرِ آب تلاش جاری

طیارے کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنطیارے کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا

آسٹریلیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 بلیک بکس کو ڈھونڈنے کے لیے دو بحری جہازوں کی مدد سے جنوبی بحرِ ہند میں زیرِ آب تلاش جاری ہے۔

یہ بحری جہاز ایسے آلات سے لیس ہیں جو لاپتہ طیارے کے بلیک بکس کے سگنل کو زیرِآب ڈھونڈ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جمعے کو گم شدہ طیارے کی تلاش میں 14 طیارے اور نو بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اس پر 239 افراد سوار تھے۔

ملائیشیا نے مختلف ممالک کے مصنوعی سیاروں سے ملنے والی تصاویر کی بنیاد پر کہا تھا کہ طیارے کی موجودگی کے آخری شواہد بحرِہند کے جنوبی علاقے میں پائے گئے تھے۔ لیکن ابھی تک اس طیارے کا ملبہ کہیں سے بھی نہیں ملا ہے۔ تلاش کی اس مہم کی سربراہی آسٹریلیا کر رہا ہے۔

مشترکہ ایجنسی کوآرڈینیشن مرکز کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہیوسٹن نے کہا کہ دو بحری جہازوں نے لاپتہ طیارے کے بلیک باکس سے آنے والے سگنل تک رسائی کے لیے زیرِ آب تلاش شروع کر دی ہے۔

آسٹریلیا کا بحری جہاز اوشیئن شیلڈ گم شدہ طیارے کو ڈھونڈ رہا ہے۔ اس پر امریکی بحریہ کا ’پِنگ لوکیٹر‘ یا بلیک باکس سے آنے والے سگنل کا سراغ لگانے والا آلہ نصب ہے۔ یہی صلاحیت رکھنے والے جہاز ایچ ایم ایس ایکو نے بھی لاپتہ طیارے کے بلیک باکس کی تلاش شروع کر دی ہے۔

ایئر چیف مارشل اینگس ہیوسٹن نے کہا کہ ’دونوں بحری جہاز 240 کلومیٹر کا ایک ہی راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کور کرتے ہوئے تلاش کریں گے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے اس تلاش میں وقت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بلیک باکس کی بیٹری سات اپریل تک ہی سگنل بھیج سکتی ہے جس کا مطلب ہے بلیک باکس سے چند دن تک ہی سگنل آئیں گے۔

اینگس ہیوسٹن نے کہا کہ بحرِ ہند کے اس علاقے کو لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مصنوعی سیاروں سے لیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر چنا گیا ہے۔

جمعے کو لاپتہ طیارے کی تلاش میں 14 طیارے اور نو بحری جہاز حصہ لیں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجمعے کو لاپتہ طیارے کی تلاش میں 14 طیارے اور نو بحری جہاز حصہ لیں گے

انھوں نے کہا کہ تلاش کے علاقے کا تعین اس بنیاد پر ہوا کہ ’طیارہ کس طرح اڑایا گیا ہوگا اور کہاں پانی میں گرا ہوگا۔‘

انھوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈیٹا کو مزید پرکھا جا رہا ہے لیکن ابھی کی تلاش ’موجود بہترین معلوماتی ڈیٹا کی بنیاد پر جاری ہے۔‘

اینگس ہیوسٹن نے مزید کہا کہ ڈیٹا کی جانچ پڑتال میں پیش رفت کو دیکھتے ہوئے ’یہ امید کی جا سکتی ہے کہ طیارہ اسی علاقے میں مل جائے گا جہاں پر اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔‘

لاپتہ طیارے کی تلاش کا مرکز اس وقت پرتھ سے 1700 کلومیٹر کے فاصلے پر 217000 مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے۔

تلاش کے عملے سے جمعے کو ملاقات کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ’یہ اب تک کا سب مشکل سرچ آپریشن ہے۔‘

انھوں نے عملے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک بڑے طیارے کو تلاش کرنا آسان لگتا ہے لیکن ایک بڑے طیارے کو تلاش کرنا غیر معمولی چیلنج ہے جو ایک ناقابلِ رسائی سمندر میں غائب ہو گیا ہو۔‘

اس طیارے کو گم ہوئے تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کا ایک بھی ٹکڑا نہیں مل سکا۔