46 سال قبل سزائے موت کے مقدمے کی دوبارہ سماعت

اپنے بھائی ہاکامادا کی تصویر دکھاتی ہوئی ان کی 81 سالہ بہن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناپنے بھائی ہاکامادا کی تصویر دکھاتی ہوئی ان کی 81 سالہ بہن

جاپان کی ایک عدالت نے چار دہائی قبل موت کی سزا پانے والے ایک شخص کے مقدمے پر دوبارہ سماعت کی اجازت دے دی ہے۔

ایواؤ ہاکامادا کو اپنے باس، ان کی بیوی اور ان کے دو بچوں کے قتل کے لیے 1968 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اب وہ 78 سال کے ہیں لیکن ہاکامادا نے اس وقت 20 دنوں کی تفتیش کے بعد اقبال جرم کر لیا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران ان کو مارا پیٹا گیا تھا۔ بعد میں وہ عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہو گئے تھے۔

جاپان کی پولیس روایتی طور پر اقبال جرم پر مقدمہ چلاتی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اکثر و بیشتر یہ بیان زبردستی لیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہاكامادا سب سے طویل مدت تک موت کی سزا پانے والے قیدی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں مشرقی ایشیا کی تحقیق کے ڈائریکٹر روزیاں راف نے کہا ’اگر کسی مقدمے کو از سر نو سماعت کی ضرورت ہےتو وہ یہ مقدمہ ہے۔ ہاكامادا کو بزور اقبال جرم پر مجبور کیا گیا تھا اور پھر مجرم قرار دیا گیا تھا جبکہ حال ہی میں ڈی این اے سے فراہم ہونے والے شواہد سے اٹھنے والے سوالات کے جواب ابھی حل طلب ہیں۔‘

سابق پیشہ ور مکے باز ہاکامادا پر سنہ 1966 میں شیزواوکا میں سویا بین پروسیسنگ فیکٹری میں اپنے باس اور اس کے اہل خانہ کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کے کنبے کے افراد آتشزدگی کے بعد چاقو کے زخم سے ہلاک پائے گئے تھے۔

ہائدیکو فیصلے کے بعد مڈیا سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہائدیکو فیصلے کے بعد مڈیا سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

كيودو خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت آیا جب وکیل دفاع نے یہ ثابت کیا کہ مبینہ طور پر قاتل کے کپڑوں پر پائے جانے والے خون کے چھینٹوں کا ڈی این اے ہاكامادا کے ڈی این اے سے نہیں ملتا۔

جج نے ان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کی بے گناہی کا امکان ایک قابل احترام حد تک واضح ہو گیا ہے۔ اس لیے اب انھیں قید میں رکھنا ناانصافی ہے۔‘

معاملے کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ ملزم کو بے گناہ تسلیم کرتے ہیں۔ عام طور پر ججوں کی جانب سے عوامی طور پر اس طرح بیان دینے کا رواج نہیں ہے۔

ہاكامادا کی 81 سالہ بہن ہائدیکو کئی سال سے اس مقدمے کی از سر نو سماعت کے لیے جدوحہد کر رہی ہیں۔

اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق عدالت کے باہر انھوں نے اپنے حامیوں اور میڈیا کو بتایا کہ ’یہ آپ سب کی مدد سے ہو پایا۔ آپ سب کا شکریہ۔ میں بہت خوش ہوں۔‘