ملالہ کے لیے یورپی برادری کا ایوارڈ

ملالہ کو دنیا بھر میں کئی ایوارڈ دیے جا چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنملالہ کو دنیا بھر میں کئی ایوارڈ دیے جا چکے ہیں

پاکستان کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو فرانس کے شہر سٹاربور میں یورپی یونین کا انسانی حقوق کا ’سخاروف ایوارڈ‘ دیا گیا ہے۔

اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے اپنا ایوارڈ پاکستان میں نامعلوم ہیروز اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں رضاکاروں کے نام کر دیا۔

یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یہ ایوارڈ ملالہ یوسفزئی کو دیا۔

16 سالہ ملالہ یوسفزئی کو ایک سال قبل سوات میں سکول سے گھر جاتے ہوئے طالبان نے سر میں گولی مار دی تھی۔

سخاروف ایوارڈ برائے آزادی رائے ہر برس یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے سویت دور کے منحرف سائنسدان آندرے سخاروف کی یاد میں دیا جاتا ہے اور یہ ان ہی کے نام سے منسوب ہے۔

65 ہزار ڈالر کے نقد انعام کے ساتھ یہ ایوارڈ یورپ کا انسانی حقوق کا سب سے بڑا ایوارڈ تصور کیا جاتا ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ یورپی برادری کو یورپ سے باہر بھی ان ملکوں کو دیکھنا ہو گا جہاں آزادی رائے کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور لوگ کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا میں پانچ کروڑ 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، یہ حقیقت لوگوں کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ ملالہ نے کہا کہ بہت سے بچے خوراک، پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ملالہ نے فرانسیسی فلسفی وولٹیئر کے مشہور قول سے اپنی تقریر شروع کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا لیکن میں آپ کے بولنے کے حق کے دفاع کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔‘

ملالہ یوسفزئی نے سوات میں فوجی آپریشن کے دوران بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے فرضی نام سے ڈائریاں لکھ کر شہرت حاصل کی۔