سعودی عرب: خواتین گاڑی چلائیں گی تو کارروائی ہوگی

سعودی عرب کی وزراتِ داخلہ کے ترجمان نے سعودی عورتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کے خلاف مہم میں حصہ لیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
عورتوں کو ڈرائیونگ کا اختیار دلوانے کے لیے جاری مہم سنیچر کو اپنے عروج پر ہوگی۔ مہم چلانے والوں نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ اس دن پابندی کے خلاف احتجاجاً گاڑی چلائیں۔
<link type="page"><caption> سعودی شاہ کے قدامت پسند مشیر برخاست</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/05/120511_saudi_king_conservative_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’عورتوں کی ڈرائیونگ نسوانیت کے لیے خطرہ‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/12/111202_saudi_women_driver_report_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
یہ اپنی نوعیت کا تیسرا احتجاج ہے۔ پہلی مرتبہ 1990 میں متعدد خواتین کو حراست میں لیا گیا اور کئی نے اپنی ملازمتیں گنوا دیں۔
وزراتِ داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے خواتین ڈرائیوروں کی مہم کے بارے میں سعودی حکومت کا سخت موقف واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔
اس سے پہلے بدھ کو آنے والے بیان میں ابہام تھا، جس کی وجہ سے اس مہم کے حامی اور مخالفین دونوں ہی اسے اپنے حق میں تصور کر رہے تھے۔
لیکن اب منصور الترکی نے واضح بیان دیا ہے کہ ’عورتوں کے گاڑی چلانے پر پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘۔ تاہم انہوں نے اس کارروائی کی وضاحت نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کے خلاف مہم کی ایک کارکن ذکی صفر کا کہنا ہے کہ پابندی سے متعلق یہ بیان غیر معمولی طور پر واضح ہے۔
’اب یہ غلط فہمی دور ہو گئی ہے کہ حکومت خود اس پابندی کی حمایت نہیں کرتی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’نہیں، ترجمان بہت واضح تھا اور 26 تاریخ کو جو عورت گاڑی چلائے گی اسے سزا ملے گی۔‘
لیکن ذکی صفر سمجھتی ہیں کہ حکومت اب بھی ملے جلے پیغام دے رہی ہے کیونکہ پابندی اٹھائے جانے کے معاملے پر وہ خود منقسم ہے۔
اس ہفتے کے اوائل میں دارالحکومت ریاض کی شاہی عدالت میں سو قدامت پرست علما نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اس مہم کی مذمت کریں کیونکہ یہ عورتوں کی سازش اور ملک کے لیے خطرہ ہے۔
لیکن اسے معاملے پر 1990 میں ہونے والے دوسرے احتجاجی مظاہرے پر حکام کے رویّے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت میں سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ اب بہت کم ہیں۔
احتجاج کی تازہ لہر میں درجنوں خواتین نے اپنی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کی ہیں جن میں انھیں مختلف سعودی شہروں میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس مہم کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب معاشرے کا چلن تبدیل ہو رہا ہے اور اب مردوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔
اس حوالے سے ایک عرض داشت پر سترہ ہزار لوگوں نے دستخط کیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ یا تو اس قانون میں تبدیلی کی جائے یا واضح کیا جائے کہ یہ کیوں لاگو رہے؟







