’بھاری ہتھیار تو دور کی بات ہمارے پاس تو پستول بھی نہیں‘

حال ہی میں لیبیا کے کے وزیر اعظم کا اغوا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کافی مخدوش ہے
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں لیبیا کے کے وزیر اعظم کا اغوا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کافی مخدوش ہے

لیبیا کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال اس کے دارالحکومت طرابلس کی الرشید روڈ سے نمایاں ہوتی ہے۔اس سڑک پر بیلجیئم اور روسی ساخت کے ہتھیار خوب بک رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں پستول سے لے کر اے کے 47 یعنی کلاشنکوف تک شامل ہیں۔

ان ہتھیاروں کا استعمال حفاظت یا رعب و دبدبے ہی کے لیے نہیں کیے جاتے بلکہ شادی بیاہ کے موقعے پر ہوائی فائرنگ کے لیے بھی کیے جاتے ہیں۔

الرشید روڈ سے چالیس ڈالر پر روسی ساخت کی ڈی ایس ایچ کے 12.7 ایم ایم کرائے پر لی جاسکتی ہے جس سے پیلی کاپٹر اور ٹینک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

زیادہ تر اسلحہ لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کی فوج سے قبضے میں لیے گئے ہیں اور ان میں سے کئی ایسی جگہوں پر سکیورٹی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جہاں حکومتی عملداری نہیں ہے۔

حال ہی میں لیبیا کے وزیر اعظم کا اغوا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کافی مخدوش ہے۔

وزیر اعظم کے اغوا سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا اس حکومت کا مستقبل ہے یا نہیں ہے۔

محمد العیب جو ایک سکول ٹیچر ہیں کا کہنا ہے ’اگر وزیر اعظم اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تو وہ ہماری حفاظت کے ضمانت کیسے دے سکتے ہیں۔‘

ان کے رشتہ دار ابراہیم نے کہا ’ریاست کہاں ہے؟ اگر پارلیمنٹ کے ممبران اور کابینہ کے ممبران اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حکومت کی عملداری نہیں رہی تو لوگ اس سے کیا اخذ کریں؟‘

طرابلس میں زیادہ تر افراد کا یہ کہنا ہے کہ ملک پر محتلف ملیشیا کا کنٹرول ہے۔ حکومت ابھی تک ان ملیشیا کو متحد کر کے فوج اور پولیس فورس بنانے میں ناکام رہی ہے۔

زیادہ تر ملیشیا گروہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں نے وہ مقاصد پورے نہیں کیے جن کے لیے سب نے جد و جہد کی تھی یعنی انصاف، مساوات اور معاشی ترقی۔

اس صورتحال میں لیبیا کے شہری اگر کسی پولیس کی گاڑی کو بھی دیکھ لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ حکومت کی عملداری ابھی بھی ہے۔

لیکن پولیس خود اعتراف کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی اتھارٹی نہیں ہے اور وہ خود ملیشیا کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

طرابلس کے مرکزی پولیس سٹیشن کے نائب سربراہ خالد العارف کا کہنا ہے ’ملیشیا سے بچنے کے لیے بھاری ہتھیار تو دور کی بات ہمارے پاس پستول بھی نہیں ہے۔‘