افریقی ممالک کا عالمی عدالت سے انخلا پر غور

افریقی ممالک کی تنظیم افریقی یونین نے جرائم کی عالمی عدالت سے وسیع پیمانے پر انخلا پر غور کرنے کے لیے ایک سربراہی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ افریقی ممالک کو شکایت ہے کہ جرائم کی عالمی عدالت صرف افریقی لیڈروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ انخلا جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے کینیا کے نائب صدر ویلیم روٹو کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے خلاف احتجاج کے طور کیا جا رہا ہے۔
افریقی رہنماؤں کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت کو بھیجے جانے والے ایک خط میں کہاگیا ہے کہ ویلیم روٹو کی ہیگ میں موجودگی سے کینیا کو نقصان ہوگا۔
اس سے پہلے افریقی یونین نے افریقی رہنماؤں کو نسل کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے حوالے سے آئی سی سی پر تنقید کی تھی تاہم آئی سی سی کا کہنا ہے کہ وہ جرائم کے شکار افراد کے حق میں آواز اٹھاتی رہے گی۔
افریقی یونین کا یہ سربراہی اجلاس تیرہ اکتوبر کو ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس بابا میں منعقد ہو گا۔
کینیا کی پارلیمان نے نائب صدر کے خلاف رواں ماہ شروع ہونے والے مقدمے سے کئی روز پہلے آئی سی سی سے انخلا کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
واضح رہے کہ کینیا کی جانب سے کیے جانے والے اس فیصلے کا ویلیم روٹو کے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
جرائم کی عالمی عدالت کینیا کے صدر اوہیورو کینیاٹانے اور نائب صدر ویلیم روٹو پر سنہ 2007 کے انتخابات کے بعد تشدد کو بڑھانے کا الزام عائد کرتی ہے تاہم دونوں خود پر لگنے والے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان فسادات میں 1,000 افراد ہلاک جبکہ چھ لاکھ افراد کو اپنا گھر چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔
ادیس بابا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روانڈا ان ممالک میں سے ایک ہے جو افریقی یونین اور آئی سی سی کے تعلقات کو از سرِ نو مرتب کرنے کے بارے میں زور دے رہا ہے۔
روانڈا میں افریقی یونین کے سفیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف کینیا تک نہیں ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ بین الاقوامی انصاف اب صرف اور صرف سیاسی معاملہ بنتا جا رہا ہے۔
افریقی یونین نے کینیا کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کو واپس کینیا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔







