چین: الیکٹرک کاروں پر سبسڈی کا اعلان

چینی حکومت کے اس امدادی منصوبے کا مقصد ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنا ہے
،تصویر کا کیپشنچینی حکومت کے اس امدادی منصوبے کا مقصد ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنا ہے

چین میں حکومت نے تیل کم خرچ کرنے اور بیٹری پر چلنے والی کاروں پر امدادی رعایت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اس امدادی منصوبے کا مقصد ملک کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنا ہے۔

حکومت مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والی یا زیادہ تر بیٹری اور ہائیڈروجن سے چلنے والی کاریں خریدنے والوں کو فی کار ساڑھے نو ہزار ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کرے گی۔

اس پالیسی سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چینی کار بنانے والی کمپنی بی وائے ڈی کو فائدہ پہنچے گا جو بجلی سے چلنے والی کاریں اور بیٹریاں بناتی ہے۔

تاہم اس پروگرام کا اطلاق پیٹرول اور بیٹری کی مشترکہ طاقت سے چلنے والی یعنی ہائبرِڈ کاروں پر نہیں ہو گا۔

حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ’توانائی کے نئے طریقوں سے چلنے والی گاڑیوں کے بنانے کی رفتار میں اضافہ کرنا اور توانائی کی بچت اور فضائی آلودگی میں کمی ہے‘۔

حکومتی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق گزشتہ سال تک ملک میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد ستائیس ہزار آٹھ سو تھی جن میں زیادہ تر بسیں تھیں
،تصویر کا کیپشنحکومتی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق گزشتہ سال تک ملک میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد ستائیس ہزار آٹھ سو تھی جن میں زیادہ تر بسیں تھیں

چین کی حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ 2020 تک ’نئے توانائی کے زرائع‘ سے چلنے والی پچاس لاکھ گاڑیوں کو سڑکوں پر لائے گی۔

حکومتی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق گزشتہ سال تک ملک میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد ستائیس ہزار آٹھ سو تھی جن میں زیادہ تر بسیں تھیں۔

چین میں حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا گاڑیوں کا امدادی پروگرام 2012 کے آخر میں ختم ہو گیا تھا مگر اس سے بیٹری پر چلنے والے گاڑیوں کو فائدہ نہیں ہوا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پروگرام میں ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی شامل کرے جیسا کہ ٹیوٹا کی پریئس کار ہے۔