لیبیا انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کی بیٹی اغوا

لیبیا کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد عبداللہ السینوسی کی بیٹی کو طرابلس میں جیل سے نکلتے ہی اغوا کر لیا گیا۔
وزیرِانصاف صالح المرغانین نے بتایا ہے کہ پیر کی صبح الریومی جیل سے پولیس انود السینوسی کو لیکر جا رہی تھی کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ محترمہ السینوسی کولے جانے سے پہلے حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔
محترمہ السینوسی کی سزا ختم ہو چکی تھی اور جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت انہیں پولیس کی حفاظت میں طرابلس ہوائی اڈے پہنچایا جا رھا تھا۔
وزیرِ انصاف نے مزید بتایا کہ چار گاڑیوں نے پولیس پر گھات لگا کر حملہ کیا اور زبردست فائرنگ شروع کر دی لیکن جلدی ہی یہ واضح ہو گیا کہ وہ محترمہ السینوسی کو لیجانا چاہتے تھے۔
اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ وزیرِ انصاف نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے اور خاص طور پر باغیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں تلاش کرنے میں مدد کریں۔
محترمہ السینوسی کو اکتوبر 2012 میں جعلی پاسپورٹ کے ساتھ لیبیا میں داخل ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد عبداللہ السینوسی سے ملاقات کرنے آئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے والد معمر قذافی کے دور حکومت کے دوران ہونے والے جرائم کا حصہ بننے کے الزام میں قید ہیں۔
عبداللہ السینوسی جرائم کی عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں ان پر 2011 میں معمر قذافی کے خلاف ہونے والی بغاوت میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔
طرابلس میں بی بی سی کی نام نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ اغوا کے اس تازہ واقعہ سےجرائم کی عالمی عدالت کی اس دلیل کو تقویت ملتی ہے کہ لیبیا عبداللہ السینوسی اور سیف قذافی جیسے اہم مقدمات کے لیے تیار نہیں ہے۔







