برطانوی ویزا کےلیےضمانت، بھارت کی نکتہ چینی

بھارت کی تاجر برادری نے برطانوی حکومت کےاس منصوبے کی شدید نکتہ چینی کی ہے جس کے تحت برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے تین ہزار پاؤنڈ بطور ’ضمانت‘ جمع کرانے ہوں گے۔
اس منصوبے پر اس سال نومبر سے عمل کیا جائے گا۔اِس منصوبے کا مقصد لوگوں کو برطانیہ میں مختصر مدت کے ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد برطانیہ سے چلے جانے پر مجبور کرنا ہے۔
اگر مختصر مدت کے ویزہ پر آنے والے لوگ اپنی ویزہ ختم ہونے سے پہلے واپس نہیں جاتے تو ان کی یہ رقم ضبط کر لی جائے گی۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کا کہنا ہے کہ یہ ’انتہائی امتیازی‘ اقدام ہے۔
حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ویزہ کی مدت کے بعد واپس نہ جانے والوں کی تعداد ملک کے ایمیگریشن سسٹم کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ ان ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں سے آنے والے لوگ اس زمرے میں آتے ہیں۔
حالانکہ ابھی اس بات کی تصدیق ہونی ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ بھارت ، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، گھانا اور نائجیریا سے آنے والے لوگوں کو تین ہزار پاؤنڈ بطور ضمانت دینے ہونگے اور ان کے واپس نہ جانے کی صورت میں یہ رقم ضبط کر لی جائے گی۔
بھارت کی بڑی صنعتوں کی نمائندہ تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پہلے ہی سٹوڈنسٹ ویزہ میں تبدیلیوں کے بعد سے کشیدہ تھے اور اب اس منصوبے سےمزید تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔
کنفڈریشن کے بیان میں کہاگیا ہے کہ برطانیہ میں غیر ملکی تارکین وطن کے مسئلے پر تشویش جائز ہے لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے دیگر موثر اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ویزہ کے اس طرح کے ضابطوں سے نہ صرف تجارتی مفادات پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ بھارت سے برطانیہ جانے والے سٹوڈنٹس اور سیاحوں کی تعداد بھی متاثر ہوگی۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ابھی اس منصوبے کو حتمی شکل دی جانی ہے اور ان ممالک کا انتخاب بھی کیا جانا ہے جنہیں اس زمرے میں رکھا جائے گا۔
برطانوی وزیرِداخلہ ٹریسا مے کا کہنا ہے کہ ’ہماری دلچسپی بانڈ یا ضمانت رکھنے کے نظام میں ہے جس سے گھومنے پھرنے کے ویزہ پر آنے والے لوگوں کو برطانیہ میں ویزہ ختم ہونے کے بعد رہنے سے روکا جائےاور پبلک سروس میں ان لوگوں پر خرچ ہونے والی رقم وصول کی جاسکے۔







