’ہر کسی کو ہر وقت قابو میں رکھنا ناممکن ہے‘

برطانوی حکومت نے لندن میں ایک فوجی کے قتل کے پس منظر میں ہونے والی تنقید کے خلاف اپنی سکیورٹی اداروں کا دفاع کیا ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی سکیورٹی ادارے اس بات پر تنقید کا نشانہ بنیں کہ وہ ان علامات کی نشاندہی نہیں کر سکیں جس سے ممکنہ طور پر اس فوجی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

پچیس سالہ رگبے کو مشرقی لندن کے وولچ علاقے کی ایک گلی میں بدھ کو چاقو کے وار کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کا ایک دو سالہ بیٹا بھی ہے۔

یہ تنقید اس وقت ہوئی جب یہ بات سامنے آئی کہ لی رگبے کے قتل کے سلسلے میں گرفتار افراد کو برطانوی خفیہ ادارہ ایم آئی 5 جانتی تھی۔

مشتبہ حملہ آوروں کے نام مائیکل ادیبولاجو اور مائیکل ادیبوال بتائے جاتے ہیں۔

کمیونٹی سیکرٹری ایرک پیکلز کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن تھا کہ ہر کسی کو ہر وقت قابو میں رکھا جاتا۔

انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ’ارکانِ پارلیمان اس بات کی بھرپور تحقیقات کریں گے کہ سکیورٹی اداروں کو کتنا معلوم تھا۔ لیکن میں نے سکیورٹی کے ماہرین کو اس بات کی وضاحت کرتے سنا ہے کہ ایک آزاد معاشرے میں ہر فرد کو قابو کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔‘

جن دو حملہ آوروں نے اس مذکورہ برطانوی فوجی پر حملہ کیا تھا ان پر پولیس نے بھی فائرنگ کی جس میں وہ دونوں زخمی ہوگئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ شخص کو دو افراد نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے چاقو سے کاٹ کر ہلاک کیا۔

موقع پر جمع ہونے والے افراد نے ایک حملہ آور کی ویڈیو بنائي تھی جس میں اسے کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ چونکہ برطانوی فوجی ہر روز مسلمانوں کو مارتے ہیں اس لیے اس نے یہ حملہ کیا ہے۔

ایم 16 کے سابق سربراہ رچرڈ باریٹ نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ اس جیسے حملوں کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’میرے خیال میں ان افراد کا تعلق ایک چھوٹے گروپ سے ہے جن کے کوئی بیرونی رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی برطانیہ کے اندر کوئی بڑے کنکشنز ہیں جو سکیورٹی اداروں کی نظر میں آتے۔‘

لندن میں قتل ہونے والے فوجی لی رگبے کا ایک دو سالہ بیٹا ہے
،تصویر کا کیپشنلندن میں قتل ہونے والے فوجی لی رگبے کا ایک دو سالہ بیٹا ہے

انہوں نے کہا کہ’ کب شدت پسند خیالات کا اظہار کرنے والا شخص ایک شدت پسند گروپ میں شامل ہوتا ہے اور تشدد کی طرف مائل ہوتا ہے۔میرے خیال میں یہ معلوم کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔‘

میٹروپولیٹن پولیس کے سابق کمیشنر لارڈ بلیئر نے ریڈیو فور کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ ان مشتبہ افراد کی کیسے نگرانی کی گئی، جس سے اس بات کا پتہ لگایا جا سکے گا کہ غلطی کہاں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ’ میرے خیال میں عوام کے لیے یہ جاننا بہت اہم ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی غلطی ہوئی، کوئی غلط فیصلہ کیا گیا، کیونکہ کہ عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سکیورٹی اور پولیس کے ادارے صحیح کام کر رہے ہیں۔‘

ادھر جمعرات کو برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی فوجی کے قتل کو برطانوی طرزِ زندگی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان قاتلوں نے اپنے مذہب کو بھی دھوکہ دیا ہے۔

انہوں نے یہ بات اس واقعے پر برطانوی حکومت کی قومی سلامتی کی کمیٹی ’کوبرا‘ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہی تھی۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم ’دی مسلم کونسل آف بریٹن‘ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام میں اس طرح کے قتل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔