یونان میں یومِ مزدور پر ہڑتال

یونان میں یومِ مزدور منانے اور ملک میں سخت کفایت شعاری کے نفاذ کے خلاف عام ہڑتال شروع ہو گئی ہے جس میں ٹریڈ یونینوں نے مظاہرین سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ ہڑتال منگل کو آدھی رات شروع ہوا ہے۔
اس ہڑتال کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور ہسپتال جیسے معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
ہڑتال کے منتظمین بجٹ میں کٹوتی اور ٹیکس میں اضافے کو ختم کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں جس پر حکومت کا کہنا ہے کہ یونان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے یہ اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔
ملک کے دو بڑے یونینوں جی ایس ای ای اور اے ڈی ای وائے نے کہا ہے کہ ہڑتال ملک میں اخراجات میں کمی کے پالیسی کو ختم کرنے پر مرکوز ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری ستائیس فیصد تک پہنچ گئی ہے جس میں 60 فیصد بے روزگار نوجوان ہیں۔
یونان کے وزیرِ اعظم کے انتونیس ساماراز کے کابینہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے پیسے لینے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
وزیرعظم نے اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاشی بحران کا یہ آخری سال ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا کسی بھی قسم کے تشدد کو روکنے کے لیے پولیس کو چوکنہ کر دیا گیا ہے۔
ایتھنز میں بی بی سی کے نمائندے مارک لوئین کا کہنا ہے کہ ملک میں بیس سے زیادہ عام ہرتال اخراجات میں کٹوتی کو ختم نہیں کر سکے۔
بین الاقوامی اداروں نے یونان کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے تین بلین یورو کی منظوری دی ہے اور مزید چھ بلین یورو کی منظوری تیرہ مئی کو دینے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ یورپین یونین اور آئی ایم ایف نے 2010 میں یونان کو 200 بلین یوروز قرضہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ .







