فرانس: ڈاکو ڈرامائی طریقے سے جیل سے فرار

پولیس نے مفرور ڈاکو کی تلاش میں شاہراہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے
،تصویر کا کیپشنپولیس نے مفرور ڈاکو کی تلاش میں شاہراہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے

شمالی فرانس میں پولیس ایک بدنام ڈاکو کو تلاش کر رہی ہے جو بڑے ڈرامائی طریقے سے جیل توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

ریدواین فائد نے لِل شہر کے قریب واقع سیکیودین جیل میں کئی بم دھماکے کیے اور فرار ہوتے وقت چار محافظوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مسلح ہیں اور ان کے پاس اب بھی دھماکا خیز مواد موجود ہے۔

فائد فرانس کے مشہور مجرم ہیں۔ انھیں کئی ڈاکوں کے ارتکاب کی وجہ سے قید کیا گیا تھا۔

انھوں نے 2009 میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں پیرس کے جرم زدہ نواحی بستیوں میں پلنے بڑھنے اور خود جرائم کی دنیا میں داخل ہونے کے تجربات بیان کیے گئے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے جرائم سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، تاہم پولیس کا خیال ہے کہ انھوں نے 2010 میں ایک ڈاکے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں ایک خاتون پولیس اہل کار ہلاک ہو گئیں تھیں۔

انھیں 2011 میں پیرول کی خلاف ورزی پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فیاد کو ان کی اہلیہ نے اس وقت دھماکا خیز مواد دیا تھا جب وہ سنیچر کی صبح ان سے ملاقات کے لیے آئی تھی۔

انھوں نے اس مواد کی مدد سے جیل کے پانچ دروازے اڑا دیے اور چار محافظوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔

وہ باہر کھڑی ایک کار میں بیٹھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں انھوں نے اس کار کو آگ لگا دی اور ایک دوسری کار میں بیٹھ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے۔ پولیس اس کار کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یرغمالوں کو جیل کے باہر اور ایک ہائی وے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

پولیس افسر فریدریک فیورے نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فائد ’بہت خطرناک قیدی‘ تھے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فرار واضح طور بہت منظم طریقے سے کیا گیا تھا اور وہ اب بھی کڑیاں ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔