اٹلی: سابق انٹیلیجنس سربراہ کو دس سال قید

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 22:47 GMT 03:47 PST

ابو عمر کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست ان پر تشدت کیا گیا

اٹلی میں اعلیٰ اپیل عدالت نے ملک کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نیکولو پولاری کو دس سال پہلے ایک مشتبہ امام کو اغوا کرنے کے جرم میں دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے نیکولو پولاری کے نائب اور تین دوسرے جاسوس اہلکاروں کو بھی سزا دی ہے۔ یہ سزا ان کو دس سال پہلے امریکہ کی مشتبہ دہشت گردوں کو غیر قانونی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے یا رینڈیشن پروگرام کے دوران ابو عمر نامی امام کو گرفتار کرنے کے جرم میں دی گئی ہے۔

امام کو میلان کی ایک گلی سے اٹھایا گیا تھا اور پھر اسے ہوائی جہاز کے ذریعہ مصر منتقل کیا گیا تھا جہاں ان پر جسمانی تشدد کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصر سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند اوسامہ مصطفیٰ حسن کو جو ابو عمر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں امریکی جاسوسی ادارے سی آئے اے اور اٹلی کے جاسوسی ادارے نے 2003 میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران میلان کی ایک گلی سے اٹھایا تھا۔ ابو عمر نے اس وقت اٹلی میں سیاسی پناہ لی ہوئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عدالت نے نیچلے درجے کی عدالت کے اس فیصلے کو رد کر دیا جس کے تحت ان پانچ افراد کو رہا کیا گیا تھا۔

عدالت نے اٹلی کے ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ نیکولو پولاری کو دس سال، ان کے نائب مارکو مانسینی کو نو سال اور تین ایجنٹوں کو چھ چھ سال سزا سنائی۔ ان سزاؤں کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

نیکولو پولاری کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو سنائے جانے واے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ نیکولو کے وکلاء کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے ریاستی راز کو افشاں کرنے پر پابندیوں کی وجہ سے اپنے مؤکل کی صحیح طرح سے دفاع نہیں کر سکے۔

اس کیس میں 26 امریکی اہلکاروں کو بھی ان کی غیر موجودگی میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

یہ دنیا پہلے میں سی آئی اے کے اہلکار ملوث والے پہلے ایسے مقدمات ہیں جس میں کسی کو ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>