
ابو عمر کا کہنا ہے کہ ان پر سات ماہ تک زیرِ حراست تشدد کیا گیا
اٹلی کی اعلیٰ ترین اپیل عدالت نے تئیس امریکیوں کو ایک مبینہ دہشت گرد کے اغواء کے الزام میں قصوروار قرار دیے جانے کے ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
ان امریکی شہریوں میں سے ایک کے سوا تمام خفیہ ادارہ سی آئی اے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس مقدمے کا تعلق دو ہزار تین میں ایک مصری امام کے اطالوی شہر میلان سے اغواء سے ہے۔
ابو عمر نامی اس شخص کو مبینہ طور پر مصر لے جایا گیا تھا اور اس پر تشدد کیا گیا۔
امریکی شہروں پر مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا گیا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا جہاں سی آئی اے کے اس اقدام پر غور کیا گیا جس میں خفیہ ایجنسی ملزمان کو ایسے ممالک میں لے جاتی ہے جہاں قیدیوں پر تشدد کی اجازت ہوتی ہے۔
سی آئی اے کے اس تفتیشی انداز کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مذمت کرتی ہیں اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔
امریکی شہریوں کے اس گروہ میں سی آئی اے کے بائیس افسران اور فضائیہ کے ایک پائلٹ شامل ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں ہی رہائش پذیر ہیں اور یہ غیر متوقع ہے کہ یہ افراد اس مقدمے میں سنائی گئی سزائیں کاٹیں گے۔
اٹلی نے کبھی بھی کسی ملزم کو ملک میں منتقل کرنے کی درخواست نہیں کی ہے تاہم ان کا یورپ میں سفر کرنا گرفتاری کے خطرے سے خالی نہ ہوگا۔
ان ملزمان میں میلان میں سی آئی اے کے سٹیشن سربراہ رابرٹ سیلڈن بھی شامل ہیں۔ وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اس امام کو اغوا کرنے کے سلسلے میں ان کی مخالفت کو رد کر دیا گیا تھا۔






























