’بن غازي پرحملہ، اپنے بیانات کا دفاع ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 12:23 GMT 17:23 PST
سوزین رائس

رائس کے ابتدائی بیان پر زبردست نکتہ چینی ہوئي تھی

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر سوزین رائس نے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد دیے گئے اپنے بیانات کا دفاع کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چودہ ستمبر کو ان کے انٹرویوز پر مبنی ٹیلی ویژن پر ان کے جو بیانات نشر ہوئے وہ امریکی انٹیلیجنس کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھے۔

سوزین رائس نے اس حملے کو اسلام مخالف فلم پر ہونے والے احتجاج کا نتیجہ بتایا تھا جس پر اپوزيشن ریپبلکن جماعت نے ان پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

لیکن بعد میں امریکی حکومت نے اسے منصوبہ بند دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا جس کی مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

اپنے دفاع میں محترمہ رائس نے کہا: ’بن غازی پر حملے سے متعلق بات چیت کے دوران میں نے صرف انہیں معلومات کا سہارا لیا جو امریکی خفیہ ایجنسیوں نے فراہم کی تھیں۔ میں نے اس بات کو بہت واضح کیا تھا کہ معلومات بالکل ابتدائی مراحل کی ہیں اور مزید تفتیش سے ہی حتمی جواب ملیں گے۔‘

انہوں نے انٹیلیجنس ایجنسیز کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ ’سبھی نے دستیاب معلومات پر مبنی جائزہ پیش کرنے میں اچھی نیت سے کام کیا۔ جب تک وزارت خارجہ اور ایف بی آئی کی نظر ثانی نہیں ہوتی اس وقت تک حتمی جانکاری مشکل ہوتی ہے۔‘

"بن غازی پر حملے سے متعلق بات چیت کے دوران میں نے صرف انہیں معلومات کا سہارا لیا جو امریکی خفیہ ایجنسیوں نے فراہم کی تھیں۔ میں نے اس بات کو بہت واضح کیا تھا کہ معلومات بلکل ابتدائی مراحل کی ہیں اور مزید تفتیش سے ہی حتمی جواب ملیں گے۔"

سوزین رائس

اڑتالیس سالہ سوزین رائس صدر اوبامہ کی پرانے حامیوں میں سے ہیں۔ صدر اوباما کے دوسرے دور اقتدار میں انہیں وزارت خارجہ کے عہدہ کا دعویدار بتایا جارہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ ہلری کلنٹن کی جگہ لیں۔

بن غازی میں امریکی سفارتخانے پر حملے میں امریکی سفیر کرس سٹیون سمیت چار امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

یہ واقعہ گيارہ ستمبر، نیویارک پر حملے کی برسی، کے دن ہوا تھا اور امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ دراصل دہشتگردانہ حملہ تھا۔

کانگریس کی ایک کمیٹی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے تمام پہلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئي اے کو پتہ تھا کہ اس میں القاعدہ ملوث تھی یا نہیں یا پھر محکمہ خارجہ بن غازی کے عملے کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملہ منصوبہ بند طریقے سے کیا گيا اور پر تشدد مظاہروں کا نتیجہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>