
امریکی کے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ملک کی معیشت سہرِ فہرست رہی۔ یہ بات بظاہر بہت حیران کن ہے کہ امریکہ میں رہنے والے بیس ملین سے زائد افراد چاہے وہ بےروزگار ہوں یا کام کرنے والے اپنی مرضی کے مطابق صرف چند گھنٹے کام کرتے ہیں۔لیکن یہ دیکھنا خاصا دلچسپ ہو گا کہ گزشتہ چار سال کے دوران امریکی معیشت کی کاررکردگی کتنی خراب رہی اور اس کا مقابلہ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں سے کیسے کیا گیا؟
امریکی تاریخ کے مطابق اس کی حالیہ معیشت خراب ہے تاہم اگر اس کا موازنہ عالمی معیشت سے کیا جائے تو انکشاف ہو گا کہ اس کی معیشت یورپ کے مقابلے میں بہت بہتر رہی۔
اگر امریکہ کی معیشت یا جی ڈی پی یا مجموعی داخلی پیداوار پر نظر ڈالی جائے تو کساد بازاری کے باوجود امریکی معیشت میں بحالی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی معیشت کی تیسری سہ ماہی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی جی ڈی پی میں کساد بازای سے پہلے دو اعشاریہ دو فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اس کے برعکس جاپان اور یورپ کے زیادہ تر ملکوں کی معیشت کساد بازاری کا شکار رہی۔
اگر امریکی معیشت پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کی جی ڈی پی آبادی کے حوالے کم رہی۔ امریکہ کی آْبادی تین اعشاریہ آٹھ فیصد تک بڑھ چکی ہے جو اس کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔
امریکہ میں ملازمتوں کی حالت ابھی اچھی نہیں ہے تاہم کسادبازاری کے وقت جو صورتحال تھی اس میں کچھ بہتری آئی ہے۔
امریکی معیشت کی کساد بازاری کے حوالے سے ملک میں گرما گرم بحث جاری ہے۔
ایک فریق کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت میں کساد بازاری کی وجہ معاشی بحران ہے جبکہ دوسرے فریق کے مطابق ان کی وجہ اوباما انتظامیہ کی خراب پالیسیاں ہیں۔
امریکہ کے بڑے اقتصادی ماہرین اس کی وجہ معاشی بحران کو قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق یکے بعد دیگرے آنے والے معاشی بحرانوں نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔






























