
دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت ہے کہ ابھی کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔
امریکہ میں صدارتی انتخاب میں اب ایک دن باقی ہے اور انتخابی مہم کے آخری دن دونوں امیدواروں کی نظریں ان فیصلہ کن ’سوئنگ سٹیٹس‘ یا ڈانواڈول ریاستوں پر مرکوز ہے جو امریکہ کے اگلے صدر کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی ہیں۔
پیر کی صبح ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما اپنی مہم کا آغاز وسکونسن سے کریں گے جس کے بعد آئیووا اور اوہایو جائیں گے۔
کلِک امریکی الیکشن 2012 پر خصوصی ضمیمہ
ان کے حریف مٹ رومنی انتخابی مہم کے آخری دن فلوریڈا، ورجینیا، نیو ہمپشائر اور اوہایو کا رخ کرنے والے ہیں۔
براک اوباما اتوار کو نیو ہمپیشائر اور فلوریڈا میں انتخابی جلسوں سے خطاب کر چکے ہیں جبکہ ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی اتوار کو پنسلوینیا میں نظر آئے۔
رومنی کی انتخابی ٹیم کے مطابق اب اس ریاست میں منگل کو ری پبلکن امیدوار کی فتح ممکن دکھائی دیتی ہے۔
قومی سطح پر ہونے والے عوامی جائزوں میں بھی دونوں امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ ہے لیکن اہم فیصلہ کن ریاستوں میں براک اوباما کو معمولی برتری ملی ہے۔
شمالی امریکہ کے امور کے لیے بی بی سی کے مدیر مارک مارڈل کا کہنا ہے کہ مقابلہ اتنا سخت ہے کہ کسی فریق کو اپنی جیت کا مکمل یقین نہیں ہے۔
ریاست اوہایو میں انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ یہ وہ ریاست ہے کہ جس میں اگر کسی ری پبلکن امیدوار نے شکست کھائی ہے تو وہ صدر نہیں بن سکا ہے۔
اوہایو میں موجود بی بی سی کی بریجٹ کینڈل کے مطابق یہاں سب سے تند و تیز مہم چلائی جا رہی ہے۔

اتوار کو اوہایو میں شائع ہونے والے حتمی عوامی جائزے کے نتائج کے مطابق براک اوباما کو مٹ رومنی پر دو فیصد کی معمولی برتری حاصل ہے اور انہیں رومنی کے اڑتالیس فیصد کے مقابلے میں پچاس فیصد افراد کی حمایت حاصل ہے۔
اتوار کو بھی براک اوباما اور مٹ رومنی دونوں نے اوہایو کا دورہ کیا۔ کلیولینڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مٹ رومنی کا کہنا تھا کہ اوباما اپنے وعدے نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ’وہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے صرف ری پبلکنز کی بات کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ غیرجانبدارانہ آواز سننے میں بھی ناکام رہے‘۔
اوہایو کے بعد پنسلوینیا کے علاقے موریسویل میں اپنے خطاب میں رومنی نے کہا کہ ’امریکی عوام جانتے ہیں کہ ہم وائٹ ہاؤس واپس لے رہے ہیں کیونکہ ہم پنسلوینیا میں جیتنے والے ہیں۔
ادھر نیو ہمپشائر میں ریلی سے خطاب میں براک اوباما نے کہا کہ ’ہم اتنا آگے بڑھ آئے ہیں کہ اب واپس لوٹنے کا امکان ہی نہیں رہا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن میں سیاسی جمود توڑنے کے لیے کام کریں گے لیکن ہیلتھ کیئر اور تعلیمی امداد جیسی ترجیحات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
اتوار کے دن اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مشترکہ سروے میں دونوں امیدواروں کو اڑتالیس اڑتالیس فیصد حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر جانب دار ووٹر بھی چھیالیس چھیالیس فیصد پر منقسم ہیں۔
سروے کے مطابق مٹ رومنی سفید فام، معمر اور مذہبی لوگوں میں، جبکہ اوباما عورتوں، غیر سفید فاموں اور نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہیں۔






























