
صدر اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقتدار کی پُرامن منتقلی چاہتے ہیں
افغانستان کے الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ صدارتی انتخابات پانچ اپریل دو ہزار چودہ کو ہوں گے۔
اس اعلان کے بعد یہ افواہیں سرد پڑ گئی ہیں کہ صدر حامد کرزئی انتخابات وقت سے پہلے کروائیں گے۔
صدر کرزئی کے اقتدار کی مدت باضابطہ طور پر اگست دو ہزار چودہ میں مکمل ہوگی ہے اور یہ ان کا دوسرا دورِ حکومت تھا۔ آئین کے تحت وہ تیسری بار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
ان انتخابات کو افغانستان سے نیٹو افواج کے دو ہزار چودہ میں متوقع انخلاء کے بعد، ملک میں استحکام کے سلسلے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی انتخابات میں بدعنوانی کے ذریعے اپنے ہی کسی ساتھی کی فتح کو یقینی بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تاہم صدر اور ان کے حامیوں نے ان خدشات کی شدید تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اقتدار کی پُرامن منتقلی چاہتے ہیں۔
افغانستان میں یورپی یونین کے سفیر کا کہنا تھا کہ کمشن کا اعلان اس بات کا ایک خوش آئین ثبوت ہے کہ افغان حکام ٹوکیو میں کیے گئے سیاسی وعدوں کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
جولائی میں ہونے والی اس کانفرنس میں امداد دینے والے ممالک نے افغانستان کی ترقی کے لیے سولہ ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے۔ ان امدادی رقوم کا مقصد نیٹو کے انخلاء کے بعد افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانا تھا جن میں سے ایک اقدام دو ہزار چودہ میں صدارتی انتخابات کا انعقاد تھا۔
یورپی یونین کے سفیر کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شرکت کو بڑھایا جائے، شفاف انداز میں منعقد کرایا جائے اور یہ ایک قانونی نتیجہ فراہم کریں۔
صدر کرزئی کے دو ہزار نو میں دوبارہ منتخب ہونے پر دھاندلی کے بہت سے الزامات لگائے گئے تھے۔
اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیشنل کرائسسز گروپ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نیٹو کے انخلاء کے بعد افغان حکومت کے گرنے اور ملک میں خانہ جنگی کا شدید امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان فوج اور پولیس، سیکورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ اگر ریاست نے اسے روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو دو سال بعد ہونے والے انتخابات میں شدید دھاندلی ہوگی۔
افغان حکومت نے ان خدشات کو بے بنیاد کہا تھا۔






























