
بغاوت میں فوج کے ستاون سینیئر افسران سمیت چوہتر افراد ہلاک ہوئے
بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے سال دو ہزار نو میں ہونے والی بغاوت میں شامل ہونے کے الزام میں سات سو تئییس سرحدی محافظوں کو جیل بھیج دیا ہے۔
بغاوت میں فوجی افسران سمیت چوہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اب تک چھ ہزار افراد کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے عدالتی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی تعداد میں مشتبہ افراد دوران حراست مارے گئے اور دوسروں کو تشدد اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
بنگلہ دیشی فوج نے ہیومن رائٹس واچ کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہلاکتیں دل کا دورہ پڑنے ارو دیگر طبی وجوہات کی بنا پر ہوئیں۔
سنیچر کو عدالت نے بنگلہ دیشی بارڈ رائفلز یا بی ڈی آر کے سابق اہلکاروں کو بغاوت میں شامل ہونے اور اس کی رہنمائی کرنے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا۔
ریاسی استغاثہ غازی زیلو رحمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام 735 سرحدی محافظوں پر الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ دو کی عدالتی کارروائی کے دوران موت واقع ہو گئی اور دس کو بے قصور پایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 723 کو قصور وار ٹھہرایا گیا اور چونسٹھ فوجیوں کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی محفاظ دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں جن میں قتل شامل ہے، اور ان کے خلاف دیگر علیحدہ سے عدالتی کارروائی کی جائے گی اور ان کو اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔
سال دو ہزار نو میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی بغاوت تقریباً تینتیس گھنٹے جاری رہی۔
اس کے بعد دوسرے بارڈر یونٹس بھی اس بغاوت میں شامل ہو گئے اور ایسے ملکی تاریخ میں سکیورٹی فورسز کی بدرترین بغاوت تھی۔
اس میں ملک کی فوج کے ستاون سینیئر افسران سمیت چوہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بنگلہ دیش کی سرحد کے لیے کام کرنے والے بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں کی بغاوت کم تنخواہ اور ملازمت کے بدترین حالات جیسے تنازعات سے شروع ہوئی تھی۔






























