
امریکی صدر براک اوباما اور ریپبلکن جماعت کے حریف مٹ رومنی نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مباحثے میں ٹیکس، معیشت اور خارجہ پالیسی پر بحث کی۔
نیو یارک میں ہوئے اس مباحثے میں اوباما نے جارحانہ انداز اپنایا۔ وہ پہلے مباحثے میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے۔
تاہم ان کے حریف مٹ رومنی بھی جارحانہ رہے اور اوباما پر جھوٹے وعدے کرنے اور ناقص کارکردگی کے الزامات عائد کیے۔
کلِک پہلا مباحثہ: ’رومنی نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا‘
یہ دونوں صدارتی امیدوار بائیس اکتوبر کو تیسرے اور آخری مباحثے میں مدِمقابل ہوں گے جو فلوریڈا میں ہو گا۔
اس مباحثے سے قبل گیلپ پول کے مطابق اوباما کو مٹ رومنی پر چار پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
صدر اوباما سوئنگ ریاستوں میں اپنی بہت کم برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ریاستیں ہی اگلے صدر کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گی۔
مباحثے کے دوران دونوں امیدوار بات کرتے ہوئے سٹیج پر آزادانہ گھومے اور اکثر موقعوں پر ایک دوسرے کی بات بھی کاٹی۔
"گورنر رومنی اور کانگریس میں ان کے حمایتیوں نے 98 دیصد کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ ٹیکس میں کمی صرف دو فیصد عوام کے لیے چاہتے ہیں۔"
صدر اوباما
اس نوے منٹ کے مباحثے میں اوباما پہلے مباحثے کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ اور پر اعتماد تھے لیکن رومنی نے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
مباحثے کے آغاز پر اوباما نے گاڑیوں کی صنعت کے حوالے سے رومنی پر الزام لگایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیٹروئٹ دیوالیہ ہو جائے۔ تاہم رومنی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کے حایتی ہیں کہ بارہ ملین مزید نوکریاں پیدا ہوں۔
دونوں صدارتی امیدواروں نے توانائی پالیس پر بھی ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیا۔
رومنی نے کہا کہ اوباما کے دورِ اقتدار میں ایندھن کی قیمتیں دو گنا ہو گئی ہیں۔ اس پر صدر اوباما نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2009 میں معیشت بدحالی کا شکار تھی۔ انہوں نے کہا کہ رومنی ایندھن کی قیمتوں کو نیچے اس لیے لائیں گے کہ ان کی معاشی پالیسی ایک بار پھر معیشت کو بدحالی کا شکار کر دیں گی۔
مباحثے میں دونوں امیدواروں نے متوسط طبقے کو جیتنے کی کوشش کی۔
صدر اوباما نے کہا کہ چار سال میں انہوں نے متوسط طبقے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے ٹیکسوں میں کمی کی ہے۔
’لیکن گورنر رومنی اور کانگریس میں ان کے حمایتیوں نے 98 دیصد کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ ٹیکس میں کمی صرف دو فیصد عوام کے لیے چاہتے ہیں۔‘
لینیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتکار سمیت چار امریکیوں کے قتل کے حوالے سے رومنی نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود اوباما نے اگلے ہی دن لاس ویگس میں انتخابی مہم کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے ایک پارٹی رکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اوباما انتظامیہ نے امریکی عوام کو گمراہ کیا کہ آیا یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا یا نہیں۔

تیسری اور آخری صدارتی بحث فلوریڈا میں 22 اکتوبر کو ہو گی
صدر اوباما نے کہا کہ یہ کہنا ہتک آمیز ہے کہ ان کی انتظامیہ نے اس قسم کے واقعے پر سیاست کی۔
اوباما اور رومني کے درمیان پہلی بحث ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں ہو چکی ہے جس کے بعد خود امریکی صدر تسلیم کر چکے ہیں کہ اس میں ان کی کارکردگی بہتر نہیں تھی۔
براک اوباما دوسری مرتبہ عہدۂ صدارت سنبھالنے کے لیے نو اہم سوئنگ سٹیٹس میں برتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جن کے نتائج اس مرتبہ صدر کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
امریکہ میں اکیس دن بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایک نئے سروے میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
امریکہ کی پچاس میں سے تینتالیس ریاستوں میں پوسٹل اور ’ارلی ان پرسن‘ پولنگ جاری ہے۔ ان میں کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جو انتخابات کے نتائج میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے اوہائیو میں پیر کو انتخابی مہم کے پروگرام میں بتایا تھا کہ انہوں نے پیر کو اپنا ووٹ ڈال دیا ہے۔































