
دونوں امیدواروں نے اب تک اپنی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر پیش نہیں کی ہیں
امریکہ کے صدارتی انتخاب سے چونتیس دن قبل صدر براک اوباما اور ان کے حریف مٹ رومنی بدھ کو پہلے صدارتی مباحثے میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ مباحثہ ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں منعقد ہو رہا ہے اور اس میں امریکہ کی داخلی پالیسیاں اور ان سے جڑے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔
ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی نے صدر اوباما کی حکومت کی معاشی کارکردگی کو ایک عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے لیکن اس مباحثے میں خود انہیں اپنے ٹیکس منصوبوں اور امیگریشن پالیسی کے بارے میں سوالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انتخابی جائزوں کے مطابق اس مرتبہ امریکہ میں صدر کے عہدے کے لیے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما کو ان ریاستوں میں برتری حاصل ہے جنہیں اصل انتخابی میدان قرار دیا جاتا ہے۔
این بی سی نیوز اور وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے منگل کو شائع کیے جانے والے قومی جائزے کے نتائج کے مطابق اس وقت مٹ رومنی کو چھیالیس جبکہ براک اوباما کو انچاس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق ریپبلکن امیدوار اور ریاست میساچوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی کو اس مباحثے میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔
مٹ رومنی کی مقبولیت گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس ویڈیو کے سامنے آنے سے متاثر ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سینتالیس فیصد امریکی جو انکم ٹیکس نہیں دیتے خود کو متاثرین میں شمار کرتے ہیں اور وہ حکومتی مدد پر انحصار کر رہے ہیں۔
کانٹے کا مقابلہ متوقع
امریکہ میں صدر کے عہدے کے لیے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما کو ان ریاستوں میں برتری حاصل ہے جنہیں اصل انتخابی میدان قرار دیا جاتا ہے۔ این بی سی نیوز اور وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے منگل کو شائع کیے جانے والے قومی جائزے کے نتائج کے مطابق اس وقت مٹ رومنی کو چھیالیس جبکہ براک اوباما کو انچاس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔
معیشت کے معاملے پر ریپبلکن امیدوار کی انتخابی مہم اس نظریے پر مبنی ہے کہ براک اوباما کے دور میں امریکی معیشت ناکام رہی ہے۔ رومنی ملک میں آٹھ فیصد سے زائد بیروزگاری کی شرح، نوکریوں کی تخلیق میں کمی کا حوالہ دیتے آئے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ کاروباری معاملات میں ان کا تجربہ امریکی معیشت کو پھر اپنے پیروں پر کھڑا کر دے گا۔
اس کے برعکس براک اوباما کا کہنا ہے کہ ان کے حریف جو پیشکش کر رہے ہیں وہ ان ناکام ریپبلیکن پالیسیوں کو دہرانے کے سوا کچھ نہیں جو دو ہزار آٹھ کے اقتصادی بحران کی وجہ تھیں۔
براک اوباما نے امیر ترین امریکیوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز دی ہے جس سے حاصل شدہ رقم بجٹ خسارے میں کمی میں مدد دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مٹ رومنی کے منصوبے امریکہ کے متوسط طبقے کو نقصان پہنچائیں گے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں امیدواروں نے اب تک اپنی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر پیش نہیں کی ہیں اور یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں کہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ وہ امریکہ کے پندرہ کھرب ڈالر کے خسارے پر کیسے قابو پائیں گے۔






























