
یہ سنہ انیس سو چھیانوے کی بات ہے، گرمی کے دن تھے۔ لندن کے ایک ہوٹل میں میری ملاقات خالد فوواض سے ہوئی جس نے خود کو القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا ترجمان بتایا۔
خالد فواض ان پانچ مشتبہ شدت پسندوں میں سے ایک ہیں جنہیں برطانیہ نے چند دن قبل امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ ان پر انیس سو اٹھانوے میں نیروبی اور دارسلام میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں اور دو سو چوبیس افراد کی ہلاکت کے الزامات ہیں۔
خالد نے مجھ سے کہا کہ اس کے رہنما اسامہ بن لادن افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں اور وہ اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو بی بی سی کو دینا چاہتے ہیں۔
بی بی سی عربی سروس کے میرے ساتھی نک فیلہم پہلے سے ہی خالد سے رابطے میں تھے اور انہوں نے ہی ہماری ملاقات کا انتظام کیا تھا۔
سنہ انیس سو اٹھانوے میں اپنی گرفتاری سے پہلے خالد لندن میں اسامہ بن لادن کے میڈیا افسر کے طور پر کام کرتے تھے۔
ایسی خبریں آتی رہیں کہ نوے کی دہائی میں خالد برطانیہ کی مقامی خفیہ سروس ایم آئی فائیو کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے، تاہم یہ معاہدہ فریقین کی مایوسی پر ختم ہوا۔
ایم آئی فائیو کو شاید امید تھی کہ اس سے اسے برطانیہ میں رہنے والے اسلامی شدت پسندوں کے بارے میں سراغ ہاتھ لگے گا، وہیں خالد کو لگتا تھا کہ وہ اس رابطہ کے بل پر برطانیہ میں محفوظ رہیں گے لیکن مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں کے بعد امریکہ کی ہی درخواست پر انہیں پکڑ لیا گیا جس کے بعد سے ہی وہ اپنی امریکہ کو حوالگی کے خلاف لڑ رہے تھے۔
سنہ انیس چھیانوے کے موسمِ گرما میں وسطی ایشیا میں کشیدگی کی فضا تھی کیونکہ دو ماہ پہلے ہی سعودی عرب کے علاقے دھاران میں امریکی فضائی فوج کی بیرکوں میں ٹرک بم حملے میں امریکہ کے انیس فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
اس وقت اسامہ بن لادن نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس حملے میں ان کا ہاتھ ہے، لیکن انہوں نے اپنی رضامندی ضرور ظاہر کی تھی۔
یہ وہی وقت تھا جب اسامہ بن لادن نے سی آئی اے کی وجہ سے سوڈان کا اپنا ٹھکانا چھوڑ کر افغانستان کے پہاڑی علاقے میں پناہ لی تھی۔
خالد فواض سے ملنے کے لیے میں اپنے ساتھی کے ساتھ اس ہوٹل پہنچا جہاں وہ ٹھہرے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہمارے سامنے مضبوط قدوقامت والا ایک شخص آیا جس کا لباس سعودی عرب کے لوگوں جیسا تھا۔
ان کی پیشانی پر موجود نشان بتا رہا تھا کہ وہ نماز کے پابند اور دیندار شخص ہیں۔
خالد نے وقت ضائع کیے بغیر براہ راست الفاظ میں کہا، ’شیخ ابو عبد اللہ آپ سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو بی بی سی کو دینا چاہتے ہیں‘۔
اسامہ بن لادن کے دوست اور پیروکار انہیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ وہ سوڈان چھوڑنے سے پہلے ایک اخبار کو انٹرویو دے چکے تھے۔
اس کے پانچ سال بعد امریکہ پر 9/11 حملہ ہوا اور اسامہ بن لادن کے ویڈیو الجزیرہ ٹی وی پر دکھائی دیے۔
خالد نے جب اسامہ بن لادن سے ملاقات کی پیشکش کی تو میں اور نک دونوں یہی سوچ رہے کہ کیا ایسا کرنا محفوظ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ دنوں پہلے ہی اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے امریکہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔
خالد شاید ہماری سوچ کو بھانپ گئے تھے۔وہ بولے،’میں اس اعلان کے وقت کو لے کر شیخ سے متفق نہیں ہوں، لیکن آپ فکر نہ کریں، وہ آپ کی سکیورٹی کا انتظام کریں گے، آپ ان کے مہمان ہوں گے۔‘
ایک بات تو کہنی پڑے گی، خالد اپنی زبان کے پکے تھے۔ اس کے بعد مغرب کے کئی صحافی افغانستان گئے اور محفوظ واپس لوٹے۔
خالد نے اپنے منصوبے سے ہمیں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن نہیں چاہتے کہ ہم ان سے ملنے کے لیے پاکستان کے راستے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’آئی ایس آئی آپ کا پیچھا کرنے لگے گی‘۔ خالد نے کہا کہ بجائے اس کے ہم دہلی جائیں اور وہاں سے براہ راست جلال آباد کی پرواز لیں۔
منصوبہ بندی یہ تھی کہ جلال آباد ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد بی بی سی کی ٹیم کو ننگرہار صوبے کے پہاڑی علاقے میں لے جایا جائے گا جہاں اسامہ بن لادن بی بی سی کو اپنا پہلا ٹی وی انٹرویو دیں گے۔
ادھر ہمارے افغانستان جانے کے لیے ویزا اور دوسری ضروری تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ ہمارے روانہ ہونے کے صرف دو دن پہلے حالات تیزی سے تبدل ہو گئے۔
طالبان نے افغانستان میں اپنے جنوبی پہاڑی گڑھ سے دارالحکومت کابل کی طرف جارحانہ طریقے سے بڑھنا شروع کر دیا۔ ایسے میں اسامہ بن لادن نے لندن میں بیٹھے خالد کے پاس پیغام بھجوایا،’بی بی سی سے کہیں حالات معمول پر آنے تک انتظار کریں۔‘
اور اس کے بعد پانچ سال گزر گئے، امریکہ پر 9/11 کا حملہ ہوا اور اسامہ بن لادن افغانستان سے بھاگ کر پاکستان پہنچ گئے۔
رہی بات خالد کی تو وہ اس کے بعد صرف دو سال تک آزاد گھوم سکے اور اس کے بعد میری ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔






























