
شام کے دارالحکومت دمشق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باغیوں نے شامی فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی کے احاطے میں ایک خود کش حملہ کیا ہے۔
شام کے شدت پسند جہادی گروپ ’النصرہ‘ کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑیاں ایئر فورس انٹیلیجنس کمپلکس (اے ایف آئی) کے دفتر سے باہر تباہ کی گئیں۔
مقامی افراد کے مطابق خود کش حملے کے بعد متعدد دھماکے ہوئے جن کے بعد وہاں شدید جھڑپیں ہوئیں۔
شام میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہےکہ صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والی شورشں کے بعد حکومتی مخالفین پر ایئر فورس انٹیلیجنس کی عمارت میں تشدد کیا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ اے ایف آئی کا شمار شام کی انٹیلیجنس ایمپائر میں اہم ایجنسی کے طور ہوتا ہے۔
اگرچہ اے ایف آئی شام کی ملٹری انٹیلیجنس کے مقابلے میں چھوٹی ہے تاہم اس ایجنسی نے ماضی میں حکومت مخالف اسلامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اے ایف آئی میجر جنرل جمیل حسن کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔
دوسری جانب شام کے شدت پسند جہادی گروپ ’النصرہ‘ نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گروپ کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی کی عمارت کو نو ٹن باروی مواد سے تباہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق اس حملے کے بیس منٹ بعد ’النصرہ‘ کے دوسرے گروپ نے ایک ایمبولنس میں پوشیدہ ایک ٹن وزنی بم کو تباہ کیا جس کے بعد ان کے جنگجوؤں نے اے ایف آئی کمپلکس پر مارٹر داغے۔
ایس او ایچ آر نامی آرگنائزیشن کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسی کے احاطے میں خود کش حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپلکس کی تہہ خانے میں موجود قیدیوں کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔
ایک شامی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے اے ایف آئی کمپلکس کے نزدیک ایک گاڑی کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔






























