شام: ایئر فورس انٹیلیجنس کمپلکس تباہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 12:02 GMT 17:02 PST

شام کے دارالحکومت دمشق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باغیوں نے شامی فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی کے احاطے میں ایک خود کش حملہ کیا ہے۔

شام کے شدت پسند جہادی گروپ ’النصرہ‘ کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑیاں ایئر فورس انٹیلیجنس کمپلکس (اے ایف آئی) کے دفتر سے باہر تباہ کی گئیں۔

مقامی افراد کے مطابق خود کش حملے کے بعد متعدد دھماکے ہوئے جن کے بعد وہاں شدید جھڑپیں ہوئیں۔

شام میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہےکہ صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والی شورشں کے بعد حکومتی مخالفین پر ایئر فورس انٹیلیجنس کی عمارت میں تشدد کیا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ اے ایف آئی کا شمار شام کی انٹیلیجنس ایمپائر میں اہم ایجنسی کے طور ہوتا ہے۔

اگرچہ اے ایف آئی شام کی ملٹری انٹیلیجنس کے مقابلے میں چھوٹی ہے تاہم اس ایجنسی نے ماضی میں حکومت مخالف اسلامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اے ایف آئی میجر جنرل جمیل حسن کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔

دوسری جانب شام کے شدت پسند جہادی گروپ ’النصرہ‘ نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی کی عمارت کو نو ٹن باروی مواد سے تباہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق اس حملے کے بیس منٹ بعد ’النصرہ‘ کے دوسرے گروپ نے ایک ایمبولنس میں پوشیدہ ایک ٹن وزنی بم کو تباہ کیا جس کے بعد ان کے جنگجوؤں نے اے ایف آئی کمپلکس پر مارٹر داغے۔

ایس او ایچ آر نامی آرگنائزیشن کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسی کے احاطے میں خود کش حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ کمپلکس کی تہہ خانے میں موجود قیدیوں کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔

ایک شامی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے اے ایف آئی کمپلکس کے نزدیک ایک گاڑی کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>