
حلب شہر کے کئي علاقوں سے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں
شام کے شہر حلب میں اطلاعات کے مطابق حکومت نے تازہ حملوں میں باغیوں کو شدید نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔
واضح رہے کہ باغیوں کے کمانڈر نے شہر پر قبضے کے لیے جمعے کو حملے کا اعلان کیا تھا۔
فریقین کے جانب سے حلب کے کئي علاقوں میں لڑائی جاری ہے لیکن حکومتی میڈیا کے مطابق جوابی حملے میں باغیوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر جاری ایک بیان میں کہا گيا کہ’ دہشت گردوں‘ کے دس ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں انہیں زبردست نقصان پہنچا۔
حزب اختلاف کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جمعے کو ملک کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے جس میں سے چالیس کا تعلق حلب سے ہے۔
حلب کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کو انہوں نے پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا۔
زیاد نامی ایک شخص کا کہنا تھا ’ لڑائی کی آوازیں رکی ہی نہیں، ہر شخص ڈرا ہوا ہے، میں نے اس طرح کی آوازیں اس سے پہلے کبھی نہیں سنیں‘۔
باغیوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن ابو فرات کا کہنا تھا کہ ’باغیوں کو پیچھے اس لیے ہٹنا پڑا کیونکہ ان کے پاس بندوقوں کی کمی تھی۔ گلیوں میں گوریلا جنگ جیتنے کے لیے آپ کے پاس بم ہونے چاہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں‘۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال سے لگتا ہے کہ باغیوں کے پاس اسلحہ بارود اور لوگوں کی کمی ہے جس سے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی جا سکے۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس کے برعکس حکومت نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ٹینک جیسے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ فضائيہ کا استعمال بھی کیا ہے۔






























