
حلب میں گزشتہ کئی ہفتوں سے سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپیں جاری ہیں
شام میں حکام کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب میں پانچ بم دھماکوں میں کم از کم اکتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق چار بم دھماکے شہر کے وسطی علاقے میں فوجی افسران کے کلب اور ایک ہوٹل کے قریب ہوئے ہیں۔ جبکہ پانچواں دھماکہ چند سو میٹر کے فاصلے پر چیمبر آف کامرس کے قریب ہوا۔
شام میں حکومت کے حامی ایک ٹی وی چینل الخبریہ پر نشر ہونے والے مناظر میں بم دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں سے لاشوں کو نکالا جا رہا ہے۔
دھماکوں کے نتیجے میں سڑک پر ایک گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔
واضح رہے کہ حلب میں سرکاری سکیورٹی فورسز گزشتہ کئی ہفتوں سے باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔
باغی جنگجووں نے گزشتہ ہفتے شہر کے مزید اضلاع پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے نئی کارروائیاں شروع کی تھی۔
دو روز پہلے پیر کو شام میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب اور اس کے گردو نواح میں ہوئیں۔
پیر کو برطانیہ سے کام کرنے والے ایک شامی گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کو وسطی شام میں حمص سے پلمیرا جانے والے فوجیوں پر باغیوں کے حملے میں اٹھارہ فوجی اور ملک کے شمال مغربی قصبے ثلقن میں شامی فضائیہ کے حملے میں تیس شہری مارے گئے ہیں۔
اس سے پہلے شام نے امریکہ سمیت پانچ ممالک کی جانب سے شامی حکومت کے مخالف باغیوں کی حمایت کو دہشتگردی کی حمایت کے مترادف قرار دیا تھا۔
شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے یہ بات پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔
انہوں نے اپنی تقریر میں امریکہ، فرانس، ترکی، سعودی عرب اور قطر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ولید المعلم کا کہنا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ شام کے اندرونی معاملات میں ’صریح مداخلت‘ ہے۔






























