’خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کرنا ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 02:50 GMT 07:50 PST

مٹ رومنی نے صدر اوباما کو ہدفِ تنقید بنایا۔

امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر اوباما پر تنقید کی ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے لیبیا میں ہونے والے اُس حملے پر وائٹ ہاؤس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں امریکی سفیر ہلاک ہو گئے تھے۔

ورجینیا ملٹری انسٹی ٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ایران کو اس کے ایٹمی پروگرام پر متنبہ کریں گے۔ انھوں نے شام کے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

امریکی صدارتی انتخابات سے چار ہفتے قبل عوامی رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ صدر اوباما کو مٹ رومنی پر خارجہ پالیسی کے میدان میں سبقت حاصل ہے۔

گذشتہ بدھ کو دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے امریکی معیشت پر ہونے والے مباحثے کے بعد یہ مٹ رومنی کا خارجہ پالیسی کے بارے میں پہلا بیان ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ صدر اوباما ریاست کولوریڈو کے شہر ڈینور میں ہونے والا وہ مباحثہ ہار گئے تھے کیوں کہ اس دوران تذبذب کا شکار رہے۔

مٹ رومنی نے صدر کو خارجہ پالیسی پر متعدد بار ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا میں امریکہ کی توقیر اور طاقت دونوں میں کمی آئی ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ’حالیہ المیہ واقعات کو وسیع تناظر‘ میں پیش کرنا چاہتے ہیں اور زیادہ آزاد، خوشحال اور پرامن دنیا کے بارے میں اپنا تصور سامنے لانا چاہتے ہیں۔

رومنی نے بن غازی میں ہونے والے حملے کو صدر کی خارجہ پالیسی کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے ان کی انتظامیہ کے ردِعمل پر تنقید کی۔

انھوں نے کہا ’امریکہ پر پچھلے ماہ ہونے والے حملوں کو اتفاقی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک بڑی جدوجہد کا حصہ ہیں جو وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ وہ خطہ، جو ایک صدی کے دوران سب سے بڑی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہے۔‘

"ہماری انتظامیہ شامی باغیوں میں سے ایسے شراکت دار تلاش کر کے انھیں منظم کرے گی جن کی اقدار ہم سے مشترک ہیں اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان کے پاس بشار الاسد کے ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں کو شکست دینے کے لیے اسلحہ موجود ہے۔"

مٹ رومنی

’انتظامیہ کی طرف سے ہمیں قائل کرنے کی کوششوں کے باوجود اس حالیہ حملے کا الزام ایک اسلام مخالف قابلِ نفرت ویڈیو پر نہیں دھرا جا سکتا۔‘

ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ یہ حملہ امریکہ میں بننے والی اسلام مخالف فلم پر احتجاج کے دوران کیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں اوباما انتظامیہ نے کہا تھا کہ اس حملے کے پیچھے کچھ ایسے لوگوں کا ہاتھ ہے جو ’یا تو القاعدہ سے وابستہ تھے یا اس سے ہمدردی رکھتے تھے۔‘

مٹ رومنی نے اس وقت یہ کہا تھا کہ انتظامیہ ’حملہ آوروں کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے۔‘

مٹ رومنی نے اکثر صدر اوباما کی مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پالیسی پر یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ ’پرامید حکمتِ عملی نہیں ہے۔‘

مٹ رومنی نے کہا کہ امریکہ ’مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ اقدار رکھنے والے نئے دوست بنانے کے تاریخی مواقع ضائع کر رہا ہے‘ اور کہا کہ اس خطے میں ’امریکی قیادت کے لیے تڑپ‘ پائی جاتی ہے۔

مٹ رومنی نے ایران کے بارے میں کہا کہ وہ ’نئی پابندیاں لگانے میں نہیں ہچکچائیں گے، اور کہا کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

’امن کی خاطر ہمیں ایران کو لفظوں کے ذریعے نہیں بلکہ عمل کے ذریعے بتانا پڑے گا کہ اس کا ایٹمی پروگرام برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

مٹ رومنی نے شام کے بارے میں کہا کہ صدر اوباما قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ کہ ان کی انتظامیہ ’شامی باغیوں میں سے ایسے شراکت دار تلاش کر کے انھیں منظم کرے گی جن کی اقدار ہم سے مشترک ہیں اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان کے پاس بشار الاسد کے ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں کو شکست دینے کے لیے اسلحہ موجود ہے۔‘

اپنے خطاب میں مٹ رومنی نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کا فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>