
ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے
امریکہ میں ایک ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کو چھ ماہ قبل تک پاکستانی حکومت کی خاموش حمایت حاصل تھی جبکہ سابق فوجی آمر صدر پرویز مشرف نے تو پہلے امریکی ڈرون حملے کو چھپاتے ہوئے اسے پاکستانی کارروائی بتایا تھا اور یہ بھی کہ امریکہ کو پاکستان پر ڈرون حملوں کا بین الاقوامی قانونی جواز حاصل ہے۔
امریکی ریڈیو این پی آر یا نیشنل پبلک ریڈیو نے ایسا دعویٰ پاکستان میں ڈرون حملوں سے متعلق امریکی حکومت کے ساتھ منسلک رہنے والے سابق عملداروں کے حوالے سے کیا۔
ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ آٹھ سال سے پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کو فوجی صدر جنرل پرویز مشرف سے لیکر صرف چھ ماہ قبل تک موجودہ حکومت کی بھی تائيد حاصل رہی ہے۔ امریکی حکومت سے پاکستانی حکومت کی ڈرون حملوں پر ناراضي صرف پاکستان میں اسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد دیکھنے میں آئي ہے۔
امریکی پبلک ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت عوامی طور پر تو امریکہ سے ڈرون حملوں پر بظاہر ناراضی کا اظہار کرتی رہی ہے لیکن اندرونی طورپر نہ صرف اس کی حمایت کرتی رہی بلکہ مدد بھی کرتی رہی ہے۔
نیشنل پبلک ریڈیو نے امریکی حکام اور ورجینیا لاء یونیورسٹی میں سینیئر فیلو کرسٹوفر سوئفٹ کے حوالے سے بتایا کہ دو ہزار نو سے صرف چھ ماہ قبل تک طریقہ کار یہ تھا کہ امریکی حکام پاکستانی حکام کو ڈرون اہداف یا نشانوں کے بارے میں تفصیلات بھیجتے تھے۔ بعض اوقات تو امریکی حکام کی بھیجی ہوئی اطلاعات میں پاکستانی حکام اضافہ کر کے واپس بھیجتے تھے۔
امریکی ریڈیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اگرچہ اب بھی امریکی حکام ڈرون حملوں کے اہداف کے بارے میں پاکستانی حکام کو پیشگی تفصیلات بھیجتے ہیں لیکن وہ یعنی پاکستانی حکام محض ان کے موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

حال ہی میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈرون حملوں میں بہت زیادہ بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں
خارجہ امور پر امریکی ماہر اور معروف امریکی تھنک ٹینک کاؤنسل آن فارین ریلشنز میں سینیئر فیلو ڈینیئل مرکی، جو کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے وقت امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ کے شعبہ کے ساتھ منسلک تھے، کے حوالے سے این پی آر نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہزار چار میں پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب پہلا امریکی ڈرون حملہ ہوا تو اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے اسکی ذمہ داری خود اٹھاتے ہوئے اسے پاکستانی فوجی کارروائی بتایا تھا۔
رپورٹ میں سابق امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی گرفتاری اور ہلاکت کے بعد امریکی ڈرون حملوں پر پاکستان میں شدید لے دے ہوئي۔
رپورٹ کے مطابق اب بھی پاکستانی حکومت امریکی ڈرون حملوں پر امریکی حکومت کے ساتھ رسمی طور پر احتجاج کرتی ہے لیکن اصل میں پاکستانی حکام کی ڈرون حملوں کو خاموش تائید اب بھی حاصل ہے۔
اس ضمن میں این پی آر نے امریکی محکمہ خارجہ کی وکیل ایشلی ڈیکس سے بات چیت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے اپنی سر زمین پر امریکی ڈرون حملے روکنے کیلیے عملی طور کچھ بھی نہیں کیا۔ ریڈیو کے مطابق اگر پاکستان چاہتا تو امریکی ڈرون حملوں کے خلاف سفارتی اعتراضات کرسکتا تھا، اقوام متحدہ میں باقاعدہ مقدمہ دائر کرسکتا تھا، یا اپنی فضائي حدود میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتا تھا یا بقول ایشلی ڈیکس پاکستان ڈرون طیاروں کو گرا بھی سکتا تھا کیونکہ وہ آہستہ پرواز کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی سابق وکیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے امریکہ کو سیلف ڈیفنیس تھیوری کے تحت پاکستان میں ڈرون حملوں کا جواز حاصل ہے کیونکہ وہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں اور اسکے خلاف دہشتگردی کے منصوبوں میں ملوث گروہوں کو تلاش کر کے ان کو ہدف بنا رہا ہے۔






























