’ڈرون حملوں کو پاکستانی حمایت حاصل رہی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 7 اکتوبر 2012 ,‭ 01:17 GMT 06:17 PST
ڈرون

ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے

امریکہ میں ایک ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کو چھ ماہ قبل تک پاکستانی حکومت کی خاموش حمایت حاصل تھی جبکہ سابق فوجی آمر صدر پرویز مشرف نے تو پہلے امریکی ڈرون حملے کو چھپاتے ہوئے اسے پاکستانی کارروائی بتایا تھا اور یہ بھی کہ امریکہ کو پاکستان پر ڈرون حملوں کا بین الاقوامی قانونی جواز حاصل ہے۔

امریکی ریڈیو این پی آر یا نیشنل پبلک ریڈیو نے ایسا دعویٰ پاکستان میں ڈرون حملوں سے متعلق امریکی حکومت کے ساتھ منسلک رہنے والے سابق عملداروں کے حوالے سے کیا۔

ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ آٹھ سال سے پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کو فوجی صدر جنرل پرویز مشرف سے لیکر صرف چھ ماہ قبل تک موجودہ حکومت کی بھی تائيد حاصل رہی ہے۔ امریکی حکومت سے پاکستانی حکومت کی ڈرون حملوں پر ناراضي صرف پاکستان میں اسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد دیکھنے میں آئي ہے۔

امریکی پبلک ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت عوامی طور پر تو امریکہ سے ڈرون حملوں پر بظاہر ناراضی کا اظہار کرتی رہی ہے لیکن اندرونی طورپر نہ صرف اس کی حمایت کرتی رہی بلکہ مدد بھی کرتی رہی ہے۔

نیشنل پبلک ریڈیو نے امریکی حکام اور ورجینیا لاء یونیورسٹی میں سینیئر فیلو کرسٹوفر سوئفٹ کے حوالے سے بتایا کہ دو ہزار نو سے صرف چھ ماہ قبل تک طریقہ کار یہ تھا کہ امریکی حکام پاکستانی حکام کو ڈرون اہداف یا نشانوں کے بارے میں تفصیلات بھیجتے تھے۔ بعض اوقات تو امریکی حکام کی بھیجی ہوئی اطلاعات میں پاکستانی حکام اضافہ کر کے واپس بھیجتے تھے۔

امریکی ریڈیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اگرچہ اب بھی امریکی حکام ڈرون حملوں کے اہداف کے بارے میں پاکستانی حکام کو پیشگی تفصیلات بھیجتے ہیں لیکن وہ یعنی پاکستانی حکام محض ان کے موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

حال ہی میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈرون حملوں میں بہت زیادہ بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں

خارجہ امور پر امریکی ماہر اور معروف امریکی تھنک ٹینک کاؤنسل آن فارین ریلشنز میں سینیئر فیلو ڈینیئل مرکی، جو کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے وقت امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ کے شعبہ کے ساتھ منسلک تھے، کے حوالے سے این پی آر نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہزار چار میں پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب پہلا امریکی ڈرون حملہ ہوا تو اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے اسکی ذمہ داری خود اٹھاتے ہوئے اسے پاکستانی فوجی کارروائی بتایا تھا۔

رپورٹ میں سابق امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی گرفتاری اور ہلاکت کے بعد امریکی ڈرون حملوں پر پاکستان میں شدید لے دے ہوئي۔

رپورٹ کے مطابق اب بھی پاکستانی حکومت امریکی ڈرون حملوں پر امریکی حکومت کے ساتھ رسمی طور پر احتجاج کرتی ہے لیکن اصل میں پاکستانی حکام کی ڈرون حملوں کو خاموش تائید اب بھی حاصل ہے۔

اس ضمن میں این پی آر نے امریکی محکمہ خارجہ کی وکیل ایشلی ڈیکس سے بات چیت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے اپنی سر زمین پر امریکی ڈرون حملے روکنے کیلیے عملی طور کچھ بھی نہیں کیا۔ ریڈیو کے مطابق اگر پاکستان چاہتا تو امریکی ڈرون حملوں کے خلاف سفارتی اعتراضات کرسکتا تھا، اقوام متحدہ میں باقاعدہ مقدمہ دائر کرسکتا تھا، یا اپنی فضائي حدود میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتا تھا یا بقول ایشلی ڈیکس پاکستان ڈرون طیاروں کو گرا بھی سکتا تھا کیونکہ وہ آہستہ پرواز کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی سابق وکیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے امریکہ کو سیلف ڈیفنیس تھیوری کے تحت پاکستان میں ڈرون حملوں کا جواز حاصل ہے کیونکہ وہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں اور اسکے خلاف دہشتگردی کے منصوبوں میں ملوث گروہوں کو تلاش کر کے ان کو ہدف بنا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>