
ڈرون حملوں میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی اداروں کی نشاندہی پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف انصاف کی عالمی عدالت میں جانے کی بجائے ایسا کوئی حل نکالا جائے گا جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو۔
دفتر خارجہ کے ترجمان معظم خان نے جمعہ کے روز ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کے مسئلے کے دو طرفہ حل کے لیے متعدد تجاویز زیرِ غور ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی حدود میں ڈرون حملوں کا معاملہ اعلیٰ امریکی قیادت تک پہنچایا گیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی اداروں کی نشاندہی پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات اس سال ہی ہوں گے ان مذاکرات میں دفاع، توانائی اور جمہوریت سمیت گیارہ شعبوں پر بات ہو گی۔
ایک سوال پر کہ کیا پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف بین الاقوامی انصاف کی عدالت میں جائے گا، معظم خان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ان کے بارے میں میڈیا کو بتاسکیں۔
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے اس بیان پر کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بداعتمادی بہت زیادہ ہے اور ان میں طلاق ہو جانی چاہیے، معظم خان کا کہنا تھا کہ یہ حسین حقانی کی ذاتی رائے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔
افغانستان سے پاکستانی علاقے میں دراندازی کے سوال پر دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پاکستان کے شدید خدشات ہیں اور پاکستانی قیادت نے افغان قیادت سے بات چیت کی ہے اور دونوں ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اُنہوں نے افغان حکومت کے ایک اہلکار کے اس بیان کو بھی مسترد کردیا کہ پاکستان اور ایران کے خفیہ ادارے مل کر افغانستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
بھارت کے ہوم سیکرٹری آر کے سنگھ کے بیان پر کہ پاکستان کے کچھ افراد بھارتی ریاست آسام میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے ، دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے پاس ٹھوس شواہد اور اطلاعات ہیں تو پاکستان کو اس سے ضرور آگاہ کریں۔






























