
’شاہد129 ‘ نامی یہ ڈرون دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے اور بم اور میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے ملکی سطح پر ایک طویل فاصلے تک سفر کی صلاحیت رکھنے والا ڈرون طیارہ بنا لیا ہے جو مشرقِ وسطی کے زیادہ تر حصے میں پرواز کر سکتا ہے۔
اسلامک ریولوشن گارڈز کارپس (آئی آر جی سی) کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ’شاہد 129 ‘ نامی یہ ڈرون دو ہزار کلومیٹر تک بم اور میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون تحقیقاتی اور جنگی مشن لے جانے کا اہل ہے۔
گذشتہ برس ایرانی حکام نے ایک امریکی ڈرون طیارہ دکھایا تھا جو بقول ان کے تکنیکی طور پر قابو کر کے زمین پر اتار لیا گیا تھا جبکہ امریکہ کا اصرار تھا کہ ایران نے اس کے ڈرون ’آر کیو 170‘ کو مار گرایا تھا۔
بعد ازاں آئی آر جی سی میں ہوابازی کے ادارے کے سربراہ عامر علی حاجی زادے نے کہا تھا کے ان کا ادارہ امریکی ڈرون طیارے کی نقل تیار کر رہا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’شاہد 129‘ کی امریکی ڈرون سے کوئی مشابہت ہے یا نہیں۔
ایران کی جانب سے ڈرون طیارے کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ خلیج میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بحری جنگی مشقیں کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

گذشتہ برس ایرانی حکام نے ایک امریکی ڈرون طیارہ ’آر کیو 170‘ دکھایا تھا جو بقول ان کے تکنیکی طور پر قابو کر کے زمین پر اتار لیا گیا تھا۔
تیس ممالک ان جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں جن کا مقصد خلیج میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں خلل کا سبب بننے والی بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی صلاحیت کو پرکھنا ہے۔
خلیج عدن اور آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
یہ مشقیں ایران اور مغربی دنیا میں ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد شروع ہوئی ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
پیر کو ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے حوالے سے کوئی خدشہ نہیں ہے۔
نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’بنیادی طور پر ہم صیہونیت کی دھمکیوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔ ہمارے پاس تمام دفاعی صلاحتیں موجود ہیں۔ ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘






























