
امریکی قونصل خانے پر حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیون سمیت چار امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔
لیبیا میں حکام نے بن غازی شہر میں امریکی قونصلیٹ پر حملے اور امریکی سفیر کی ہلاکت کے واقعے سے تعلق کے شبے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔
لیبیا کے نئے وزیر اعظم مصطفیٰٰ ابو شاقور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہینِ آمیز فلم نشر کیے جانے کے خلاف منگل کے روز مشتعل افراد نے لیبیا میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا ہے۔
اسی طرح کے مظاہرے بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی کیے گئے ہیں اور جمعے کے روز مزید کشیدگی کی توقع کی جا رہی ہے۔
مصر میں اس حوالے سے اسلامی گروپوں نے لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔
"کسی نے فلم بنائی اور یو ٹیوب پر ڈال دی۔ یہ یقیناً بہت جارحانہ تھی لیکن یہ امریکیوں اور امریکی سفارتخانوں کے خلاف اس قدر وحشی ردعمل کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو باہر نکلنا چاہیے اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رائے دینا چاہیے۔"
لیبیا کے وزیرِ اعظم،مصطفٰی ابو شاقور
بن غازی میں امریکہ اور لیبیا کے اہلکار اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کسی عسکریت پسند گروہ نے اس مظاہرے کو کسی منظّم حملے کے لیے توجیہہ کے طور پر تو استعمال نہیں کیا۔
لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ کہیں انہیں اس حملے کے لیے کسی سے اُکسایا تو نہیں۔
امریکی قونصل خانے پر حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیون سمیت چار امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔
لیبیا کے وزیرِ اعظم نے اس حملہ کے لیے جرائم پیشہ افراد کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کے حوالے سے اشتعال اس حملے کی توجیہہ نہیں ہو سکتا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو علم نہیں کہ اس قسم کے معاملات میں امریکی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔‘
ان کا کہنا تھا’کسی نے فلم بنائی اور یو ٹیوب پر ڈال دی۔ یہ یقیناً بہت جارحانہ تھی لیکن یہ امریکیوں اور امریکی سفارتخانوں کے خلاف اس قدر وحشی ردعمل کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو باہر نکلنا چاہیے اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رائے دینا چاہیے۔‘
امریکی قونصل خانے پر حملے کے بعد بن غازی اور طرابلس میں تشدد کے خلاف ریلیاں نکالیں۔
لیبیا کے نائب وزیرِ داخلہ وانس الشریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو گرفتاریاں کی گئی ہیں تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور وانس الشریف کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق کسی خاص گروہ سے ہے۔






























