سینائی حملہ موساد نے کروایا، اخوان المسلمین

حملہ آور حملے کے بعد میں مصری فوج سے چھینی ہوئی بکتر بند گاڑی میں سوار ہو کر زبردستی اسرائیل میں گھس گئے جس کے بعد یہ بکتر بند گاڑی تباہ کردی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحملہ آور حملے کے بعد میں مصری فوج سے چھینی ہوئی بکتر بند گاڑی میں سوار ہو کر زبردستی اسرائیل میں گھس گئے جس کے بعد یہ بکتر بند گاڑی تباہ کردی گئی۔

مصر کی اخوان المسلمین نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اتوار کے روز مصری افواج پر ہونے والے حملے کا الزام اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد پر عائد کیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس الزام کو ’فضول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کے روز مصری افواج کی ایک چوکی پر ہونے والے حملے میں سولہ مصری فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق حملہ آور حملے کے بعد میں مصری فوج سے چھینی ہوئی بکتر بند گاڑیوں میں سوار ہو کر زبردستی اسرائیل میں گھس گئے۔ ان میں سے ایک گاڑی اسرائیلی سرحد پار کرکے دو کلومیٹر تک اندر چلی گئی۔ بعد میں اس گاڑی کو اسرائیلی فضائیہ نے تباہ کردیا۔ اس گاڑی میں سوار کم از کم پانچ افراد گاڑی کے اندر جبکہ دو گاڑی کے باہر ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔

دوسری طرف اسرائیلی اور مصری حکام نے ان حملوں کا الزام شدت پسند اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد کیا۔

اخوان المسلمین کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مصر کے نئے صدر محمد مرسی کے اقتدار کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اخوان المسلمین کے بیان کی پیروی کرتے ہوئے الزام اسرائیل پر عائد کیا۔

غزہ میں حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کے حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹر نے کہا کہ ’ہر طرح سے اس کا ذمہ دار اسرائیل ہے تاکہ وہ مصر کی نئی قیادت کو شرمندہ کرسکے اور مصر کی سرحد پر نئے مسائل کھڑے کر کے غزہ پر اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ییگال پالمور اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بیان کو دینے والا جب اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتا ہوگا تو اسے بھی یقین نہیں آتا ہو گا کہ وہ کیا فضول بات کر رہا ہے‘۔

سوموار کو مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک اعلی سطحی افسر کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور ’جہادی‘ تھے جو کہ غزہ سے داخل ہوئے۔

مصری افواج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس حملے کو ’ملک دشمنوں کی جانب سے حملہ قرار دیا گیا جن سے قوت کے ساتھ نپٹا جائے گا‘۔

مصر نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بچ جانے والے حملہ آوروں کی تلاش میں چھاپے مار رہے ہیں۔

شمالی سینا میں فوجی گشت بڑھا دئے گئے ہیں جبکہ غزہ کے ساتھ ملنے والی رفاء کی سرحد مستقل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

حملہ اتوار کے روز شام کے قریب اس وقت کیا گیا جب مصری پولیس اہلکار معمول کا کام بند کر کے روزہ افطار کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

مصر کی فوجی ذرائع کے مطابق پینتیس کے قریب حملہ آور جو کہ بدؤں کے لباس پہنے ہوئے تھے نے رفاء کی سرحد پر واقع ایک چوکی پر بندوقوں اور راکٹوں سے فائرنگ کردی۔ اس حملے کے نتیجے میں سولہ فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے حملے کے بعد کیریم شالوم کے قریب اسرائیل کی سرحد دو گاڑیوں پر پار کی جن میں سے ایک سرحدی علاقے میں پھٹ گئی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملہ آوروں کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا کہ ایک بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور یہ مصر کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے سوموار کو فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا کہ یہ ایک بزدلانہ عمل تھا اور مصر صحراء سینا کا مکمل اختیار واپس لے گا۔

اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ شدت پسند اسلام کی ایک قسم شمالی سینا کے قبائل میں پھیل رہا ہے۔ شدت پسند اسلامی عسکریت پسندوں پر اسرائیل پر کئی راکٹ حملے کرنے کا الزام ہے اور اسرائیل میں سرحد پار ایک حملے کا بھی جس میں آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونلی کے مطابق اسرائیل سینا میں حفاظت کے سخت انتظامات چاہتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ مصر اس کو حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کی سرحد کے ساتھ فوجوں میں اضافہ کرے۔

مصر نے پچھلے سال سینا میں اسرائیل کے ساتھ انیس سو اناسی کے طے شدہ معاہدے کے تحت مزید افواج اور ٹینک بھجوائے تھے۔