
صحرائے اردن میں شامی باشندوں کے لیے پہلا سرکاری پناہ گزین کمیپ کھولا گیا ہے
صحرائے اردن میں شام کے پناہ گزینوں کے لیے شامیانوں کا ایک شہر بس چکا ہے لیکن وہاں کی خشک اور گرم ہوا نے شامیانوں پر گرد کی ایک چادر ڈال رکھی ہے۔
اردن میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے سربراہ اینڈریو ہارپر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کوئی بھی ان شامیانوں میں رہنا پسند نہیں کرے گا۔
ان سب کے باوجود روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں شامی باشندے سرحد پار کرکے اردن کے پہلے سرکاری پناہ گزین کیمپ میں پہنچ رہے ہیں کیونکہ ملک میں روز افزوں تشدد کے درمیان ان کے لیے یہی ایک محفوظ مقام ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ہفتے کی رات قریب دو ہزار شامی خطرناک صورت حال میں سرحد پار کرکے اردن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اردن کے سرکاری عہدیداروں کا خیال ہے کہ اجتماعی ہجرت میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ نے کہا: ’ہم نے مہینوں سرکاری کیمپوں کے دروازے کھولنے میں تاخیر کی۔ آخر ہمارا اپنا بھی ضمیر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی زمینی حقائق بھی ہمارے سامنے ہیں۔‘
ضمیر کی آواز
"ہم نے مہینوں سرکاری کیمپوں کے دروازے کھولنے میں تاخیر کی۔۔۔ آخر ہمارا اپنا بھی ضمیر ہے۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی زمینی حقائق بھی ہمارے سامنے ہیں۔"
اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ:
انہوں نے مزید کہا: ’گزشتہ پندرہ سولہ مہینوں کے دوران بہت سارے شامی یہاں آئے اور اپنے کنبے اور دوستوں کے ساتھ یہاں مقیم رہے۔ لیکن اس سے پانی، صحت، تعلیم اور توانائی کے ہمارے وسائل پر کافی بوجھ پڑجاتاہے۔
مختلف ممالک کے سفیروں کے ساتھ اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ اور وزیر داخلہ غالب الذہیب نے اس سخت چلچلاتی گرمی میں اس نئے کیمپ کا دورہ کیا۔
سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ افراد پر مشتمل ’ٹرانزٹ کیمپوں‘ سے وہ رفتہ رفتہ پانچ سے چھ سو پناہ گزینوں کو اردن کے نئے کیمپ میں منتقل کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ شروعات میں ان کمیپوں میں دس ہزار پناہ گزینوں کو جگہ فراہم کی جائے گی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہاں اتنی زیادہ زمین فراہم کی گئی کہ بالآخر یہاں ایک لاکھ لوگوں کے قیام کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
اینڈریو ہارپر نے کہا: ’اردن نے زمین فراہم کی ہے وہ پانی اور بجلی بھی فراہم کر رہا ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں پیسوں کی زیادہ ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ’سبھی پناہ گزینوں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں لیکن باتیں کرنا اور بات ہے اور پناہ گزینوں کی امداد کرنا دوسری بات ہے۔‘

شامی پناہ گزینوں میں پچھتر فی صد بچے اور خواتین ہیں: یونیسف
انھوں نے امید ظاہر کی کہ رمضان کے اس مہینے میں اردن کے پڑوسی ممالک بطور خاص خلیجی ممالک آگے آئیں گے اور اس ضمن میں مزید کام کریں گے۔
اردن مشکلات سے دوچار پڑوسی ممالک کے لوگوں کے لیے جائے پناہ رہا ہے اور اسی وجہ سے یہ مملکت اپنے محدود وسائل، کمزور معیشت اور اپنی سیاسی کمیوں کے سبب ہمیشہ دباؤ میں رہا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شام سے ایک لاکھ بیالیس ہزار شامی باشندے اردن آئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سینتیس ہزار لوگوں نے پناہ گزین کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔ ساتھ ہی اس تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
یونیسف کی ریجنل ڈائرکٹر ماریا کیلیوس کا کہنا ہے کہ 'ان میں سے پچھتر فی صد پناہ گزین خواتین اور بچے ہیں۔ اور انھوں نے شام میں اپنے گھروں سے یہاں تک کے سفر میں کافی ہمت اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس ضمن میں اردن نے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے اور انھوں نے ان پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے جو قانونی طور پر ملک میں داخل ہو رہے ہیں اور ان پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہو رہے ہیں۔
انھیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں شامی باغی اور سرگرم کارکن توان کے ملک میں نہیں داخل ہو رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمان نے اس بڑے کیمپ کے شروع کرنے میں اس لیے بھی تاخیر کی کہ دمشق سے ان کے پہلے سے کشیدہ رشتے مزید متاثر نہ ہو۔






























