ہتھیاروں کے عالمی معاہدے کیلیے اقوامِ متحدہ کی اپیل

بان کی مون
،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر اسلحہ کی خرید و فروخت کا کاروبار تقریبا ساٹھ سے ستر بلین ڈالر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیرکٹری جنرل بان کی مون نے سبھی ممالک سے درخواست کی ہے کہ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت کو کنٹرول کرنے سے متعلق نئے عالمی معاہدہ کی تشکیل کی ڈیڈلائن سے پہلے وہ بات چیت سے باہمی اختلافات کم کریں۔

جمعہ کو اس نئے عالمی معاہدے کو تشکیل دینے کی ڈیڈلائن ہے۔

اقوام متحدہ کے چیف بان کی مون نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے متعلق نیویارک میں تیس روز سے جاری بات چیت میں کوئی خاص پیش و رفت نہیں ہوئی ہے۔

حالانکہ اقوام متحدہ میں برطانوی مشن کے ایک ترجمان اس بات چیت کے بارے میں کافی پرجوش تھے اور انہوں نے خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بہت جلد ایک تاریخی معاہدہ سامنے آسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا معاہدے سے متعلق بات چیت میں ’پختہ پیش و رفت ہوئی ہے اور ایک تاریخی معاہدے بہت قریب ہے‘۔

واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر برس تقریباً ساٹھ سے ستر بلین ڈالر کے اسلحے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

پوری دنیا میں روس، امریکہ اور چین سب سے زیادہ اسلحہ برآمد کرتے ہیں اور ان تینوں ممالک نے ہتھیاروں کی خریدوفروخت کے کنٹرول سے متعلق معاہدے پر اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ مثال کے طور پر چین نہیں چاہتا کہ چھوٹے موٹے اسلحے کی خریدوفروخت کو اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔ وہیں شام، شمالی کوریا، ایران، کیوبا اور الجریا نے بھی بعض اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے چیف بان کی مون نے کہا ہے کہ جو ممالک اس معاہدے سے متعلق بات چیت میں شامل ہے اور جنہوں نے بعض اعتراضات کا اظہار کیا ہے وہ مل جل کر آپسی اختلافات کو کم کریں۔

انکا کہنا تھا ’ہماری ان سبھی معصوم لوگوں کے تئین ذمہ داری ہے جو تشدد اور جنگ کا شکار ہوئے ہیں‘۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً ہر برس تقریبا ساڑھے سات لاکھ افراد غیر قانونی ہتھیاروں کا نشانہ بنتے ہیں۔