فرانس سے عرفات کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ

فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی بیوہ نے فرانسیسی حکام سے اپنے شوہر کی موت کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوہا عرفات کے وکیل کے مطابق اس سلسلے میں پیرس میں ایک قانونی درخواست بھی داخل کی گئی ہے۔
یہ مطالبہ ایک دعویٰ سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔
فلسطینی حکام نے رواں ہفتے ہی سابق فلسطینی رہنما کی قبر کشائی کی حتمی منظوری دی ہے۔ حکام نے سنہ دو ہزار چار میں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال میں یاسر عرفات کی موت کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یاسر عرفات کی موت کے متعلق نیا دعویٰ الجزیرہ ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں سامنے آیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ 2004 میں عرفات کی موت کے بعد ان کی زیرِاستعمال جو چیزیں ان کی بیوہ کے حوالے کی گئیں ان میں ایک خاص قسم کا تابکاری مادہ پلونیم 210 کے ذرات پائے گئے۔
عرفات کے طبی ریکارڈ کے مطابق ان کی موت خون کی گردش میں بے قاعدگی کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔
تاہم سوئٹزرلینڈ کے ادارے میں یاسر عرفات کی چیزوں کا تجزیہ کرنے والے ایک طبی ماہر نے کہا ’تابکاری مادے کے سب سے زیادہ ذرات ان کے زیرجامے اور روسی ٹوپی پر پائے گئے جسے پہن کر وہ پیرس گئے تھے یا جسے رام اللہ سے نکلتے وقت انہوں نے پہن رکھا تھا۔ ان کے ٹوتھ برش پر بھی تابکار مادے کے ذرات ملے ہیں‘۔
اگر سوہا عرفات کی قانونی درخواست منظور ہو جاتی ہے تو فرانسیسی حکام کو یاسر عرفات کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کی اجازت مل جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل کے مطابق یاسر عرفات کی بیوہ کو امید ہے کہ تحقیقات ’ان حالات کی صحیح نشاندہی میں کامیاب رہیں جن میں یاسر عرفات کی موت ہوئی۔ یہی نہیں بلکہ اس سے سچائی سامنے آئے گی اور انصاف کا بول بالا ہوگا‘۔
یاسر عرفات جو پینتیس برس تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے قائد رہے 1996 میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر بنے تھے۔
وہ اکتوبر 2004 میں غرب اردن میں واقع اپنی محصور رہائش گاہ پر شدید بیمار ہوگئے تھے۔ دو ہفتے بعد انہیں علاج کے لیے پیرس لے جایا گیا تھا جہاں وہ گیارہ نومبر 2004 کو پچھہتر برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔







