افریقی قحط زدہ افراد کیلیے امداد کی اپیل

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی امدادی تنظیم آکسفیم نے وسطی افریقہ کے ممالک کے قحط زدہ افراد کے لیے ہنگامی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ قحط زدہ افراد کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
آکسفیم نے عالمی برادری سے تین کروڑ چھتیس لاکھ ڈالر کی ہنگامی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس رقم کے ذریعے دس لاکھ سے زیادہ شدید متاثرہ افراد تک پہنچا جا سکے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک مالی کے شمالی علاقے میں جاری لڑائی سے ہجرت کرنے والوں کی وجہ سے قحط سے متاثرہ افراد میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
آکسفیم نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاڈ، برکینو فاسو، مالی، موریتانیہ، نائجر، اور شمالی سینیگال میں غذائی قلت دس فیصد سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے جبکہ چند علاقوں میں یہ شرح خطرناک سطح یعنی پندرہ فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وسطی افریقہ میں دس لاکھ سے زیادہ بچے بھی غذائی قلت کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔
آکسفیم کا کہنا ہے کہ چاڈ میں ایسے علاقے ہیں جہاں گاؤں میں لوگ چیونٹیوں کے بِلوں کو کھود کر اناج تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ خوراک کی بہت زیادہ قیمتیں، شدید غربت اور علاقائی تنازعات قحط کے بحران میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
مغربی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ممادو بِٹی کا کہنا ہے ’ہزاروں افراد ایک بڑے بحران کی نہج تک پہنچ چکے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا ’ایسے تمام اشارے موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر جلد ہی کچھ نہ کیا گیا تو یہ قحط تباہی مچا دے گا۔ دنیا ایسا نہیں ہونے دی گی۔ لاکھوں افراد کو مرنے سے بچانے کے لیے مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔‘
آکسفیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس شمالی افریقہ میں قحط سالی پر ردعمل کرنے کے لیے عالمی برادری نے بہت زیادہ وقت صرف کیا تھا۔
ممادو بِٹی نے کہا ’ہم نے گزشتہ برس شمالی افریقہ میں دیکھا تھا کہ حالات قابو سے باہر ہوگئے تھے کیونکہ امدادی اداروں نے فوری ردعمل کے بجائے تاخیر سے کام لیا تھا۔ اس بار ہم ہزاروں افراد کی زندگیاں بچا سکتے ہیں اور حالات کو بدتر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ اگر ہم ابھی اقدامات کریں۔‘
بی بی سی ورلڈ کے نامہ نگار مائک وولڈرِج کا کہنا ہے کہ شمالی مالی میں فوج اور باغیوں کے درمیان حالیہ لڑائی کے باعث ایک لاکھ کے قریب افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر گئے ہیں اور ان میں سے نصف تعداد نائجر اور دیگر ممالک گئی ہے جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔
جنوری میں آکسفیم اور سیو دی چلڈرن نے کہا تھا کہ گزشتہ برس شمالی افریقہ میں ہزاروں افراد بروقت امداد نہ ملنے سے ہلاک ہوگئے تھے کیونکہ عالمی برادری نے قحط کی پیشگی تنبیہ کو نظرانداز کردیا تھا۔







