اس قدر امداد کے باوجود بھوک کیوں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, مائک تھامسن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بامیان
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ چند برسوں میں اربوں ڈالر کی امداد کے باوجود ملک کے قحط زدہ علاقوں میں پچیس لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں۔
ملک کے بیشتر گاؤں ایسے ہیں جہاں موسمِ سرما سے قبل مقامی لوگوں کے پاس کھانے پینے کو بہت کم رہ گیا ہے۔
شمالی بامیان کے پہاڑوں میں ایک ماں اپنے بچے کو گود میں لیے پریشان ہے۔ بی بی نقیبا نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس کھانے کو صرف چند سوکھے پھل اور آلو رہ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہمارے گھر میں جو کچھ بھی ہوتا ہے ہم اسے بانٹ دیتے ہیں لیکن اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ ہمارے پاس دینے کو بہت کم رہ گیا ہے۔ ہمیں مجبور ہو کر اپنے بچوں کو ’نہیں تمھارے لیے کچھ نہیں ہے‘ کہنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار وہ بھوک کے مارے روتے ہیں۔‘
بی بی نقیبا کو ڈر ہے کہ برف پڑنے پر ان کے حالات مزید بگڑ جائیں گے اور ان کی مدد کرنے کے لیے شدید موسم میں کوئی نہیں آئے گا۔
ان کا کہنا تھا ’ہم نے کئی مرتبہ حکومت کو اپنے حالات کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے لیکن حکومت نہیں سنتی۔ ہو سکتا ہے ہمارے بچے اس سال سردیاں نہ گزار پائیں اور مر جائیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’صورتِحال یہ ہے کہ اگر ہمارے ہمسایوں کے پاس بھی کھانے کو کچھ ہو تو وہ ہمیں نہیں دیں گے کیونکہ انھیں اس کی خود ضرورت پڑے گی۔ ایسے حالات میں ہر کوئی اپنے بارے میں سوچتا ہے، دوسروں کے نہیں۔‘
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے چونتیس میں سے چودہ صوبے قحط زدہ ہیں اگرچہ اس قحط کو پچھلی ایک دہائی کا بدترین سمجھا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں کاشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جس کے باعث گندم کی قیمتیوں میں دو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
تاہم قحط زدہ علاقوں میں تقریباً نوے فیصد گھر بار قرضوں کے بوجھ تلے ہیں اور بیشتر سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے کے بقول اکھٹی کی گئی امداد سے دوگنی رقم کی ضرورت ہے۔
بی بی نقیبا کا کہنا ہے کہ رواں سال موسمِ بہار میں آنے والے سیلاب کی بے رحم لہریں ان کی تمام جمع پونجی بہا لے گئیں اور اب وہ اپنے بھائی عبدل قادر اور اس کے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔
عبدل نے بتایا کہ انھیں اس سال کاشت سے کچھ نہیں ملا اور اس کے بیشتر مویشی مر گئے ہیں جبکہ کھانے پینے کے اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ عبدل کا کہنا تھا کہ حکومت اور بینالاقوامی امدادی اداروں سمیت کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود انھوں نے ریڈیو پر سنا ہے کہ ایک بہت بڑی امدادی رقم ان کے ملک میں تقسیم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا ’یہاں کوئی جنگ نہیں ہو رہی اور نہ ہی پوپی کاشت کی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری امداد قندھار یا ہلمند میں تقسیم کی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’ہو سکتا ہے کہ وہاں کے لوگ اقتدار کے حوالے سے زیادہ طاقتور ہوں یا پھر شاید وہاں جنگ چھڑی ہوئی ہے اور ہر کوئی انھیں امداد فراہم کرنا چاہتا ہے۔‘
عبدل کی بات میں کافی حد تک سچائی ہے۔ امدادی ادارے ایک عرصے سے افغانستان کے ان علاقوں میں امداد فراہم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں جہاں جھڑپیں جاری ہیں۔ اس امداد کا مقصد افغانستان کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں جلد از جلد لوگوں کے دل جیتنا ہے۔
ایک امریکی تحقیق کے مطابق افغانستان میں اسی فیصد امداد ان علاقوں میں تقسیم کی گئی ہے جہاں جھڑپیں جاری ہیں۔
گزشتہ سال صوبہ قندھار کو بامیان کے مقابلے میں چار گنا زیادہ امداد فراہم کی گئی تاہم کابل میں امریکی سفیر رائن کراکر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ملک کے جنوب میں بہت امداد تقسیم کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہاں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ امداد کی ذریعے لوگوں کو ایک بہتر مستقبل فراہم کرنا۔‘
انھوں نے کہا ’آپ جانتے ہیں کہ یہ تشدد کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے منصوبے کا حصہ ہے۔‘







