جاپان:’جوہری خدشات سے پاک مستقبل‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جاپانی وزیراعظم ناؤٹو کان نے کہا ہے کہ جاپان کو حصولِ توانائی کے لیے جوہری وسائل کو کم کر کے دیگر وسائل کو استعمال میں لانا ہو گا۔
انھوں نے یہ بات سنیچر کو جاپانی شہر ہیروشیما پر جوہری بم گرائے جانے کی چھیاسٹھ برس کی تکمیل پر منعقدہ یادگاری تقریب میں کہی۔
ناؤٹو کان کا کہنا تھا کہ فوکوشیما میں جاری بحران کا مطلب ہے کہ جاپان کو توانائی پیدا کرنے کے لیے دوسرے وسائل کی جانب توجہ کرنی ہوگی۔
انھوں نے کہا ’اس وسیع پیمانے کے جوہری حادثے کو پیش آئے بہت دیر ہو گئی ہے اور اس سے خارج ہونے والی جوہری تابکاری نہ صرف جاپان بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک فکرانگیز بات ہے۔‘
واضح رہے کہ سونامی سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ سے پانچ ماہ بعد بھی جوہری تابکاری خارج ہو رہی ہے اور ملک میں بجلی بنانے والے دو تہائی جوہری پلانٹ کام نہیں کر رہے جس کی وجہ سے جاپان میں بجلی کا بحران جاری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں جاپان کا جوہری توانائی پر انحصار کم کر دوں گا تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جسے جوہری توانائی کی ضرورت نہ ہو۔‘
ناؤٹو کان نے جاپانی عوام سے عہد کیا کہ دو ہزار بیس تک جاپان میں بیس فیصد توانائی دیگر وسائل سے پیدا کی جائے گی۔ اس وقت جاپان میں صرف نو فیصد توانائی دیگر وسائل سے پیدا کی جا رہی ہے۔
اسی حوالے سے موقع پر ہیروشیما کے میئر کازومی مٹسوئی نے کہا ’جوہری تابکاری کے مسلسل خارج ہونے کے خطرے نے لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے اور اسی لیے جوہری توانائی پر ان کا بھروسا نہیں رہا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’جاپانی حکومت کو جلد از جلد لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لیے توانائی کی موجودہ پالیسیوں پر غور و فکر کرنی ہو گی۔‘
ہیروشیما دھماکے کی چھیاسٹھویں برسی کی تقریب میں ساٹھ ممالک کے رہنماؤں سمیت پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔
امریکہ نے چھ اگست انیس سو پینتالیس کو ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا جس کے باعث ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے تین دن بعد دوسرا ایٹم بم جاپانی شہر ناگاساکی پر گرایا گیا جہاں مزید ستر ہزار شہری جوہری تابکاری اور تپش سے ہلاک ہوگئے تھے۔







