’اسرائیلی کمانڈو امدادی کشتی پر قابض‘

اسرائیل کے مطابق وہ کسی امدادی کشتی کو غزہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناسرائیل کے مطابق وہ کسی امدادی کشتی کو غزہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی فرانسیسی کشتی کو روک لیا گیا ہے۔

ڈگنائٹے یا الکرما نامی اس جہاز پر سترہ افراد سوار ہیں جن میں ایک فرانسیسی رکن اسمبلی اور ایک اسرائیلی صحافی بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجی غزہ کی طرف بڑھنے والی کشتی پر سوار ہو گئے ہیں جو غزہ پر اسرائیل کی طرف سے عائد کی جانے والی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ امدادی کشتی کو تین اسرائیلی جہازوں نے گھیر لیا ہے اور اس کے مواصلاتی نظام کو جام کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈگنائٹے جہاز کو اب اسرائیلی بندرگاہ اشدود لے جایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی بہت آرام سے الکرما پر سوار ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی امدادی کشتی کو غزہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دے گا۔

اسی ماہ غزہ جانے کے لیے تیار امدادی جہاز دی اوڈاسیٹی آف ہوپ کے کپتان کو یونانی بندرگاہ پیراما میں بندرگاہ کو بغیر اجازت کے چھوڑنے اور مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

سن دو ہزار دس میں نو ترکی شہری اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ جانے والے امدادی جہاز فریڈم پر اتر کر کارروائی کی تھی جس پر بین الاقوامی سطح پر احتجاج ہوا تھا۔

اس کے نتیجے میں اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرنا پڑی تھی جس کا مقصد اس کےالفاظ میں غزہ کو اسلحے کی سمگلنگ کو روکنا اور حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔