شیخ مجیب کے قاتلوں کو پھانسی

شیخ مجیب ملک کے پہلے صدر تھے
،تصویر کا کیپشنشیخ مجیب ملک کے پہلے صدر تھے

بنگلہ دیش میں ملک کو آزادی دلوانے والے راہنما شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث پانچ فوجی افسران کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔

ان پانچ فوجی افسران پر فوجی بغاوت کے دوران شیخ مجیب الرحمان، ان کی بیوی، تین بیٹوں، دو بہووں اور بیس دیگر افراد کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔

ڈھاکہ کی ایک جیل میں ان پانچ فوجیوں کو موت کی سزا دی گئی۔

ان پانچ فوجیوں کو موت کی سزا دیئے جانے سے کچھ دیر قبل بنگلہ دیش کے وزیر قانون نے اعلان کیا تھا کہ ان کو اتوار تک سزا دے دی جائے گی۔

ان پانچ فوجیوں نے شیخ مجیب کے قتل میں ملوت ہونے سے انکار نہیں کیا لیکن اُن کا اصرار تھا کہ ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے موت کی سزا کم کرنے کی ان پانچ مجرموں کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزادی دلانے کے صرف چار سال بعد انیس سو پچھتر میں قتل کر دیاگیا تھا۔

شیخ مجیب کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث سات دیگر مجرمان مفرور ہیں جن کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی گئی۔ ان میں شامل ایک مجرم کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملک سے باہر وفات پا چکا ہے۔

شیخ مجیب کے قتل کے بعد بننے والی حکومت نے ایک قانون کےتحت بغاوت میں ملوث فوجی افسران کو ان کے جرائم سے معافی دے دی تھی اور انیس سو اٹھانوے تک وہ آزاد رہے۔

شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد ان افسران پر مقدمہ چلایا گیا اور ان کو موت کی سزا سنائی گئی۔

بعد ازاں شیخ حسینہ انتخاب ہار گئیں اور ان کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعت کے دور میں یہ مقدمہ پھر سرد خانے میں پڑ گیا۔

گزشتہ سال شیخ حسینہ نے اقتدار میں واپس آنے کے بعد اس مقدمے کو اپنی ترجیح قرار دیا تھا۔