امریکی فوج کا تشدد، تصاویر عام ہوں گی

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ محکمۂ دفاع ایسی سینکڑوں تصاویر جاری کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے جو کہ صدر بش کے دور میں عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے زیرِ انتظام قید خانوں میں تشدد کی عکاسی کرتی ہیں۔
محکمۂ دفاع یہ تصاویر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم امریکن سول لبرٹیز یونین کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست کے جواب میں شائع کر رہا ہے۔ سابق صدر بش کے دور میں اس درخواست کی مخالفت کی جاتی رہی تھی۔
امریکی سول لبرٹیز یونین کا کہنا ہے کہ عراق کے ابو غریب کے قید خانے میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تشدد کے یہ واقعات ایک منظم طریقہ کار کا حصہ تھے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وائٹ ہاؤس ان افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بڑھے گا جو تشدد کے واقعات میں ملوث پائے گئے تھے۔
امریکن سول لبرٹیز یونین کافی عرصے سے ان تصاویر کو منظر عام پر لانے کے لیے کوششیں کر رہی تھی۔
صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایک عدالتی حکمنامے کا احترام کرتے ہوئے ان تصاویر کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایسی تصاویر سینکڑوں میں ہوں گی۔
یہ تصاویر امریکی فوج کی طرف سے عراق اور افغانستان کے مختلف قید خانوں میں سن دو ہزار ایک سے سن دو ہزار چھ تک کی جانے والی ساٹھ کے قریب تفتیشی کارروائیوں پر مبنی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سول لبرٹیز تنظیم کے وکیل امریت سنگھ نے کہا کہ یہ تصاویر اس بات کا دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ امریکی قید خانوں میں قیدیوں پر تشدد کرنا عام تھا۔
پینٹاگن کے ترجمان نے ان الزامات کی سنگینی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ دفاع نے فوری اقدام کرتے ہوئے ایسے چار سو کے قریب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تھی جو قیدیوں پر تشدد کے واقعات میں ملوث پائے گئے تھے۔







