آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملکہ الزبتھ دوم: کیا برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ کی مخالفت کی جا سکتی ہے؟
- مصنف, بی بی سی ریئیلٹی چیک ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانیہ میں گذشتہ دنوں ملکہ الزبتھ دوم کی وفات اور ان کے بیٹے چارلس کو بادشاہ بنائے جانے کی رسومات کے دوران مختلف مواقعوں پر کچھ احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن کے بعد کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
اس کے بعد آزادی اظہار کے بارے میں کام کرنے والے چند اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر کارروائی ان کے ‘اظہار رائے کی آزادی‘ کے حق کی خلاف ورزی تو نہیں؟
اور اگر ایسا ہے تو ان افراد کی گرفتاری کیا جائز ہے؟ اس معاملے میں برطانیہ کا قانون کیا کہتا ہے؟
کن لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟
اتوار کو سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ یہ خاتون چارلس کو نیا بادشاہ بنائے جانے کے باضابطہ اعلان سے متعلق ایک جلسے میں سائن بورڈ لیے کھڑی تھیں۔ جس پر ایک گالی کے ساتھ لکھا تھا ’شاہی نظام کو ختم کرو‘۔ بعد میں اس خاتون کے خلاف بد امنی پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔
اسی روز آکسفورڈ میں سائمن ہل نامی ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا۔ اس نے بھی شاہ چارلس کے لیے منعقد ایک جلسے میں چیخ کر پوچھا تھا ’ان کا انتخاب کس نے کیا؟‘
اس شخص کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے کا الزام عائد ہوا۔
سائمن ہل نے اس واقعے کے بارے میں ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ انھوں نے جب پولیس سے پوچھا کہ انھیں کس بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے تو پولیس نے ’الجھے ہوئے جواب دیے۔‘
اس کے بعد ایڈنبرا میں ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر شاہ چارلس کے بھائی شہزادے اینڈریو کے ساتھ ہاتھا پائی کی تھی۔ یہ واقعہ تب پیش آیا جب ایڈنبرا کے رائل مائل میں ایک شاہی جلوس نکل رہا تھا۔ اس شخص پر بھی نقص امن کا الزام لگایا گیا۔
اسی روز ایک وکیل بیرسٹر پال پولسلینڈ نے ٹویٹ کیا کہ لندن میں پارلیمان کے نزدیک ایک پولیس اہلکار نے ان سے کہا کہ اگر انھوں نے کسی کورے کاغذ پر ’ناٹ مائی کنگ‘ یعنی وہ میرے بادشاہ نہیں لکھا تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
پال نے اس واقعے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس کے بعد پیر کی شام مقامی میٹروپولیٹن پولیس نے بھی ٹویٹ کیا ’لوگوں کو مخالفت کا پورا حق ہے۔ اور ہم نے اس بارے میں اس غیر معمولی پولیس آپریشن سے منسلک سبھی اہلکاروں کو بھی واضح طور پر بتا دیا ہے۔‘
احتجاج کے بارے میں برطانوی قانون کیا کہتا ہے؟
برطانیہ میں ہر کسی کو امن برقرار رکھتے ہوئے احتجاج کا پورا حق ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار اور مظاہرے کے لیے اکٹھے ہونے کی آزادی انسانی حقوق کے یورپی کنوینشن میں دی گئی ہے، جسے 1998 میں برطانیہ کے انسانی حقوق کے قوانین میں بھی شامل کر لیا گیا تھا۔
لیکن ان انسانی حقوق کی ایک حد بھی طے ہے۔
اگر پولیس کو امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری لگتا ہے تو وہ دیگر قوانین کے تحت لوگوں کی آزادی پر کنٹرول رکھ سکتی ہے۔ ایسا خاص طور پر تب ہوتا ہے جب قومی سلامتی، عوام کی سلامتی، ہنگامی صورت حال پر قابو پانے یا جرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہو۔
پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت مظاہرین کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اس قانون کی شق پانچ کے تحت انگلینڈ اور ویلز کی پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکیں جس کا برتاؤ کسی مسئلے کا سبب ہو سکتا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں مارچ 2022 تک کے ایک سال کے عرصے میں 470,000 سے زیادہ ایسے مقدمات درج کیے گئے۔
ایسے مقدمات میں مظاہرین کو بد امنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب کسی شخص کے برتاؤ سے کسی دوسرے شخص یا املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
انگلینڈ اور ویلز میں بد امنی پیدا کرنے کو جرائم میں شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن کراؤن پراسیکیوشن سروس یعنی سی پی ایس پھر بھی مجسٹریٹ سے لوگوں کے برتاؤ پر غور کرنے کو کہہ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے بقول یہ واضح نہیں ہے کہ بد امنی پھیلانا کسے کہیں گے۔ ساتھ ہی وہ اس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
’ڈوناہیو سالیسیٹرز‘ سے وابستہ کیون ڈوناہیو نے کہا کہ ’برطانیہ میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران اس قانون کا اکثر غلط استعمال ہوتا ہے یا پھر اسے غلط ڈھنگ سے سمجھایا جاتا ہے۔‘
سکاٹ لینڈ میں بد امنی پھیلانا جرم ہے اور وہاں کئی گرفتاریوں میں اس قانون کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جن کی وجہ سے عام لوگوں کو خطرے کا اندیشہ ہوتا ہو یا کسی مقامی آبادی کو بد امنی کا خوف ہو۔
اس قانون میں چیخنا چلانا، گالی گلوچ، ہتھیار دکھانا یا ٹیکسٹ مسیج کے ذرہعے کسی کو دھمکانا یا پریشان کرنا بھی شامل ہے۔
سکاٹ لینڈ کی ہائی کورٹ کا کہنا ہے کسی بھی شخص کے برتاؤ کو جرم قرار دیے جانے کے لیے اس کا برتاؤ حقیقت میں خوفناک اور پریشان کن ہونا چاہیے۔
سکاٹ لینڈ میں 2020 سے 2021 کے درمیان بد امنی پھیلانے کے الزام میں 3,137 مقدمے درج ہوئے۔ وہاں اس کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کی جیل یا 2,500 پاؤنڈ جرمانہ دینا پڑتا ہے۔
ماضی میں کیا ہوا؟
2011 میں شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی کے روز نقص امن کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جب وہ ’زامبی ویڈنگ‘ سمیت مختلف احتجاجی مظاہروں کے منصوبے بنا رہے تھے جن کے سبب شادی کی رسومات میں خلل پیدا ہو سکتا تھا۔
جن افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں سے نو کو چھوڑ کر باقی سبھی کو شادی کی تمام رسومات کے مکمل ہو جانے تک پولیس نے حراست میں رکھا۔ ان پر کوئی بھی کیس درج کیے بغیر بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔ نو افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ یہ معاملے بعد میں یورپی انسانی حقوق کی عدالت تک پہنچا۔
وہ لوگ اپنی قانونی جنگ ہار گئے۔ یورپی انسانی حقوق کی عدالت نے کہا کہ وہ اس بارے میں غور نہیں کرے گی کہ گرفتاری جائز تھی یا نہیں۔ عدالت نے اس کی وجہ یہ دی کہ برطانوی جج نے معاملے کی شنوائی کے دوران پولیس کے امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری اور گرفتار ہونے والے افراد کے حقوق کے درمیان توازن کے بارے میں پہلے ہی غور کر لیا تھا۔
ایک دیگر مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنایا تھا کہ فوجی ہتھیاروں کی ایک پریڈ کے دوران سڑک بلاک کرنے والوں کو مجرم قرار نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ اور اس معاملے میں ان کے عارضی اور پر امن احتجاج کے حق کو مد نظر رکھا جانا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
نیا قانون کیا ہے؟
اب تک شاہی خاندان کی مخالفت میں کیے جانے والے احتجاج کے معاملوں میں اس برس کے آغاز میں پاس ہونے والے نئے قانون کے تحت کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے۔
اس قانون کے تحت انگلینڈ اور ویلز کی پولیس کو احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو قابو کرنے کے لیے مزید طاقت دی گئی ہے۔
یعنی اب پولیس:
- یہ طے کر سکتی ہے کہ امن و امان میں کس قسم کے خلل کو قانون کی خلاف ورزی سمجھنا ہے۔
- احتجاجی مظاہرہ کب شروع ہو گا اور کب ختم ہوگا اور اس میں کس حد تک شور کیا جا سکتا ہے یہ بھی طے کر سکتی ہے۔
- صرف ایک شخص کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے خلاف کارروائی کے لیے بھی اس قانون کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے طریقہ کار ’زیادہ خطرناک مظاہروں‘ کے لیے ضروری ہیں۔
دعوؤں کے مطابق ایکسٹنکشن ریبیلیئن (ماحولیات کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والا گروپ) جیسے گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں نے پبلک فنڈز کو نقصان پہنچایا ہے۔
امریکہ سے نسلی امتیاز پر شروع ہونے والے مظاہرے ’بلیک لائف میٹرز‘ جیسے مظاہروں میں پولیس اہلکاروں پر متعدد حملے ہوئے۔
لیکن انسانی حقوق پر پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ان معاملوں میں پولیس کو مزید طاقت دے رہی ہے جہاں پولیس کے پاس پہلے سے ہی کافی طاقت موجود ہے۔