اربوں کی جائیداد کی وارث سکول ٹیچر کے اغوا اور قتل کا کیس جس نے پورے شہر کو ہلا دیا

اربوں کی جائیداد کی وارث سکول ٹیچر کے اغوا اور قتل کی واردات نے امریکی شہر میمفِس کے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جمعے کے روز لاپتہ ہونے والی الزبتھ فلیچر کی لاش پیر کے روز ایک ایسے مقام پر اپارٹمنٹ بلڈنگ کے عقب سے ملی جہاں وہ جاگنگ کرتی تھیں۔

پولیس نے 38 سالہ چلیوتھا ایبسٹن نامی شخص کو ملزم نامزد کیا ہے جو پہلے بھی اغوا کے جرم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے۔

پرائمری سکول ٹیچر

34 سالہ الزبتھ فلیچر دو بچوں کی ماں تھیں۔ وہ ایک مقامی ارب پتی کی پوتی تھیں لیکن سکول میں پڑھاتی تھیں۔ ان کو جمعے کے دن اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ میمفِس یونیورسٹی کے قریب جاگنگ کر رہی تھیں۔

وہ اپنے علاقے کی جانی پہچانی شخصیت تھیں۔ ان کے دادا جوزف اورگل سوئم ایک مقامی کاروباری شخصیت تھے۔

ان کی کمپنی کی مالیت تین ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے جس میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد ملازمت کرتے ہیں۔

تاہم خاندانی کاروبار کا حصہ بننے کی بجائے الزبتھ نے سینٹ میری ایپسکوپال سکول میں جونیئر کنڈر گارٹن ٹیچر کے طور پر کام کرنے کو ترجیح دی۔

ان کی لاش برآمد ہونے کے بعد ان کے خاندان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’الزبتھ اپنے خاندان، دوستوں، ساتھیوں اور طلبا کے لیے خصوصی درجہ رکھتی تھیں اور یہ وقت ان کو یاد کرنے اور ان لوگوں کی مدد کرنے کا ہے جو ان کے قریبی تھے۔‘

اغوا کی واردات

الزبتھ فلیچر کو صبح سویرے جاگنگ کی عادت تھی لیکن جمعے کو مقامی وقت کے مطابق چار بجے کے قریب وہ لاپتہ ہو گئی تھیں۔

جب اس دن وہ گھر واپس نہیں لوٹیں تو ان کو لاپتہ قرار دے دیا گیا۔

ان کے خاندان کی جانب سے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 ہزار ڈالر انعام کی رقم کا بھی اعلان کیا گیا۔

بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک شخص ان کے پاس آتا ہے جس سے ان کی ہاتھا پائی ہوتی ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد وہ شخص ان کو ایک کالے رنگ کی گاڑی میں زبردستی لے جاتا ہے۔

پیر کے دن پولیس حکام نے بتایا کہ ان کو پانچ بجے ایک لاش ملی لیکن انھوں نے اس وقت کسی شناخت سے گریز کیا۔ منگل کے دن پولیس نے تصدیق کی کہ وہ لاش الزبتھ فلیچر کی ہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی لاش ایک خالی اپارٹمنٹ کے عقب سے ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ملزم

کلیوتھا ایبسٹن نامی شخص کو ہفتے کے دن گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اغوا اور قتل سمیت شواہد مٹانے کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔

پولیس کی دستاویزات کے مطابق ان کی گرفتاری میں اس مقام سے ملنے والے سینڈلز کے ڈی این اے ٹیسٹ نے مدد کی جہاں الزبتھ کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔

پولیس نے کلیوتھا ایبسٹن کی رہائش گاہ سے ایک گاڑی بھی برآمد کی جو بلکل ویسی ہے جیسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دے رہی ہے۔

ایک ویڈیو میں ان کو الزبتھ فلیچر کے اغوا کے صرف تین گھنٹے کے بعد اپنے بھائی کے اپارٹمنٹ کمپلیکس پہنچنے پر ایک گھنٹے تک اپنی گاڑی کو صاف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ان کا رویہ عجیب سا تھا اور انھوں نے اپنی گاڑی کو اندر سے صاف کرنے کے لیے قالین کی صفائی کرنے والی مشین بھی استعمال کی۔

اس نامعلوم عینی شاہد کے مطابق ملزم نے اپنے کپڑے بھی بھائی کے گھر میں دھوئے۔

دستاویزات کے مطابق جب پولیس اس رہائش گاہ پر پہنچی تو کلیوتھا ایبسٹن نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اس کو حراست میں لے لیا گیا۔

کلیوتھا ایبسٹن اس سے قبل سنہ 2000 میں میمفس کے ایک مشہور وکیل کو بندوق کے زور پر اغوا کرنے کے جرم میں تقریبا 20 سال قید کی سزا کاٹ چکے ہیں اور ان کو دو سال قبل 2020 مئی میں رہا کیا گیا تھا۔